Sunday, 3 May 2026

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے

 ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے 

بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے 

نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے 

جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے 

ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا 

یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے 

اسی سے لڑتے ہوئے ایک عمر بیت گئی 

مِری انا ہی مِرے راستے کا پتھر ہے 

تمام جسم ہیں جس کے خیال میں لرزاں 

وہ تیرگی کا نہیں روشنی کا خنجر ہے 

میں ایک قطرہ ہوں لیکن مِرا نصیب تو دیکھ 

کہ بے قرار مِرے غم میں اک سمندر ہے 

اسی کے پیچھے رواں ہوں میں پاگلوں کی طرح 

وہ ایک شے جو مِری دسترس سے باہر ہے 

اسی خیال سے ملتا ہے کچھ سکوں دل کو 

کہ ناصبوری تو اس دور کا مقدر ہے 

کبھی تو اس سے ملاقات کی گھڑی آئے 

جو میرے دل میں بسا ہے جو میرے اندر ہے 

عقاب ظلم کے پنجے ابھی کہاں ٹوٹے 

ابھی تو فاختۂ امن خون میں تر ہے 

خدا کی مار ہو اس جہل آگہی پہ حفیظ

بہ زعم خود یہاں ہر شخص اک پیمبر ہے


حفیظ بنارسی

No comments:

Post a Comment