Showing posts with label سلمان اختر. Show all posts
Showing posts with label سلمان اختر. Show all posts

Tuesday, 25 January 2022

ظلم ہے تخت تاج سناٹا

 ظلم ہے تخت، تاج سناٹا

خوف قانون، راج سناٹا

گفتگو تیر سی لگی دل میں

اب ہے شاید علاج سناٹا

سو گئیں یادیں، بجھ گئی امید

گھر میں کتنا ہے آج سناٹا

Sunday, 6 June 2021

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

 یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں

ان بدلتے ہوئے حالات میں بہتر ہے یہی

آئینہ دیکھیں تو خود اپنے کو ڈھونڈا نہ کریں

تُو گریزاں رہی اے زندگی ہم سے لیکن

کیسے ممکن ہے کہ ہم بھی تجھے چاہا نہ کریں

Saturday, 5 June 2021

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

 کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

اور کچھ راستا نیا سا تھا

جھوٹ اور سچ کے درمیاں تھا جو

آج وہ پل بھی ٹوٹتا سا تھا

جس سے سارے چراغ جلتے تھے

وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا

Friday, 4 June 2021

آئے ہیں گھر مرا سجانے درد

 آئے ہیں گھر مِرا سجانے درد

کچھ نئے اور کچھ پرانے درد

ذکر جاناں کے باغ سے گزرے

زخم مہکے ہوئے سہانے درد

خوف اتنا خوشی کا تھا ہم کو

بن گئے زیست کے بہانے درد

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

 ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

اور ہی اپنے سلسلے ہوتے

پھر ہر اک بات ٹھیک سے ہوتی

پھر نہ الجھن نہ فاصلے ہوتے

پھر نہ تنہائی رات کو ڈستی

پھر نہ قسمت سے یہ گلے ہوتے

Friday, 23 April 2021

وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا

 وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا

وہ مدتوں نہ ملے دُور جا نہیں سکتا

وہ ایک یاد جو دل سے مِٹی نہیں اب تک

وہ ایک نام جو ہونٹوں پہ آ نہیں سکتا

وہ اک ہنسی جو کھنکتی ہے اب بھی کانوں میں

وہ اک لطیفہ جو اب یاد آ نہیں سکتا

Saturday, 30 January 2021

درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں

 درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں

دل میں ہر سو چراغ جلتے ہیں

کوئی شے ایک سی نہیں رہتی

عمر ڈھلتی ہے، غم بدلتے ہیں

جو نہیں مانگتا کسی سے کچھ

شہر کے لوگ اس سے جلتے ہیں