ظلم ہے تخت، تاج سناٹا
خوف قانون، راج سناٹا
گفتگو تیر سی لگی دل میں
اب ہے شاید علاج سناٹا
سو گئیں یادیں، بجھ گئی امید
گھر میں کتنا ہے آج سناٹا
ظلم ہے تخت، تاج سناٹا
خوف قانون، راج سناٹا
گفتگو تیر سی لگی دل میں
اب ہے شاید علاج سناٹا
سو گئیں یادیں، بجھ گئی امید
گھر میں کتنا ہے آج سناٹا
یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں
شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں
ان بدلتے ہوئے حالات میں بہتر ہے یہی
آئینہ دیکھیں تو خود اپنے کو ڈھونڈا نہ کریں
تُو گریزاں رہی اے زندگی ہم سے لیکن
کیسے ممکن ہے کہ ہم بھی تجھے چاہا نہ کریں
کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا
اور کچھ راستا نیا سا تھا
جھوٹ اور سچ کے درمیاں تھا جو
آج وہ پل بھی ٹوٹتا سا تھا
جس سے سارے چراغ جلتے تھے
وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا
آئے ہیں گھر مِرا سجانے درد
کچھ نئے اور کچھ پرانے درد
ذکر جاناں کے باغ سے گزرے
زخم مہکے ہوئے سہانے درد
خوف اتنا خوشی کا تھا ہم کو
بن گئے زیست کے بہانے درد
ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے
اور ہی اپنے سلسلے ہوتے
پھر ہر اک بات ٹھیک سے ہوتی
پھر نہ الجھن نہ فاصلے ہوتے
پھر نہ تنہائی رات کو ڈستی
پھر نہ قسمت سے یہ گلے ہوتے
وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا
وہ مدتوں نہ ملے دُور جا نہیں سکتا
وہ ایک یاد جو دل سے مِٹی نہیں اب تک
وہ ایک نام جو ہونٹوں پہ آ نہیں سکتا
وہ اک ہنسی جو کھنکتی ہے اب بھی کانوں میں
وہ اک لطیفہ جو اب یاد آ نہیں سکتا
درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں
دل میں ہر سو چراغ جلتے ہیں
کوئی شے ایک سی نہیں رہتی
عمر ڈھلتی ہے، غم بدلتے ہیں
جو نہیں مانگتا کسی سے کچھ
شہر کے لوگ اس سے جلتے ہیں