Friday, 23 April 2021

وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا

 وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا

وہ مدتوں نہ ملے دُور جا نہیں سکتا

وہ ایک یاد جو دل سے مِٹی نہیں اب تک

وہ ایک نام جو ہونٹوں پہ آ نہیں سکتا

وہ اک ہنسی جو کھنکتی ہے اب بھی کانوں میں

وہ اک لطیفہ جو اب یاد آ نہیں سکتا

وہ ایک خواب جو پھر لوٹ کر نہیں آیا

وہ اک خیال جسے میں بھلا نہیں سکتا

وہ ایک شعر جو میں نے کہا نہیں اب تک

وہ ایک راز جسے میں چھپا نہیں سکتا


سلمان اختر

No comments:

Post a Comment