Showing posts with label مصطفیٰ شہاب. Show all posts
Showing posts with label مصطفیٰ شہاب. Show all posts

Thursday, 17 March 2022

عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں

 عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں

آئینہ کہتا تھا موجود سبھی ہے مجھ میں

روشنی پھر تجھے درپیش ہے اک اور سفر

دور تک جائے گی جو آگ لگی ہے مجھ میں

کروٹیں لے کے سحر کرنے کی پرخار تھکن

کبھی تجھ میں ہے نمایاں تو کبھی ہے مجھ میں

Sunday, 13 February 2022

وہ تماشا آپ کی جادو بیانی سے ہوا

 وہ تماشا آپ کی جادو بیانی سے ہوا

ایک سناٹا ہماری بے زبانی سے ہوا

ایک پل میں اٹھ گئے پردے کئی اسرار سے

وہ نہ ہوتا جو ذرا سی بد گمانی سے ہوا

بڑھ گئی کچھ طاقتِ گفتار بھی رفتار سے

شور پیدا موج دریا میں روانی سے ہوا

Monday, 24 January 2022

پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے

 پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے

وہ سوکھے پھول میں خوشبو جگانا چاہتا ہے

نہ جانے کیوں تِرے معصوم جھوٹ کو آخر

زمانہ سچ کی طرح آزمانا چاہتا ہے

ابھی تپاس سے نکلا نہیں تِرا سادھو

کہ پھر سے اک نئی دھونی رمانا چاہتا ہے

Saturday, 15 January 2022

اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا

 اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا

پھر ایسا مسیحا تو مسیحا نہیں ہوتا

قسمت کا دھنی تھا میں تبھی جیت لی بازی

ایسا نہیں ہوتا جو میں ایسا نہیں ہوتا

وہ چاک گریباں مرا لوگوں کو دکھاتے

سیتا ہے مگر سوئی میں دھاگہ نہیں ہوتا

Monday, 10 January 2022

پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے

 پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے

ہو رہی ہے مجھ سے خوشبو بھی جدا آہستہ سے

قربتیں تھیں، پھر بھی لگتا ہے ہمارے درمیاں

آ کے حائل ہو گیا اک فاصلہ آہستہ سے

اک معمہ ہے چمن سے اس پرندے کا سفر

شام کو جو آشیاں سے اڑ گیا آہستہ سے

Tuesday, 23 March 2021

قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں

 قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں

مجھے مِری بے نیازیوں پر ندامتیں بھی بہت ہوئی ہیں

یہ مت سمجھنا کہ آنسوؤں ہی سے بھیگ جاتی ہیں اس کی پلکیں

کہ بارہا چشمِ نم سے اس کی کرامتیں بھی بہت ہوئی ہیں

عجب تماشا ہے ظلم سہہ کر بھی سارے مظلوم مطمئن ہیں

انہیں کی جانب سے قاتلوں کی ضمانتیں بھی بہت ہوئی ہیں