عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں
آئینہ کہتا تھا موجود سبھی ہے مجھ میں
روشنی پھر تجھے درپیش ہے اک اور سفر
دور تک جائے گی جو آگ لگی ہے مجھ میں
کروٹیں لے کے سحر کرنے کی پرخار تھکن
کبھی تجھ میں ہے نمایاں تو کبھی ہے مجھ میں
عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں
آئینہ کہتا تھا موجود سبھی ہے مجھ میں
روشنی پھر تجھے درپیش ہے اک اور سفر
دور تک جائے گی جو آگ لگی ہے مجھ میں
کروٹیں لے کے سحر کرنے کی پرخار تھکن
کبھی تجھ میں ہے نمایاں تو کبھی ہے مجھ میں
وہ تماشا آپ کی جادو بیانی سے ہوا
ایک سناٹا ہماری بے زبانی سے ہوا
ایک پل میں اٹھ گئے پردے کئی اسرار سے
وہ نہ ہوتا جو ذرا سی بد گمانی سے ہوا
بڑھ گئی کچھ طاقتِ گفتار بھی رفتار سے
شور پیدا موج دریا میں روانی سے ہوا
پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے
وہ سوکھے پھول میں خوشبو جگانا چاہتا ہے
نہ جانے کیوں تِرے معصوم جھوٹ کو آخر
زمانہ سچ کی طرح آزمانا چاہتا ہے
ابھی تپاس سے نکلا نہیں تِرا سادھو
کہ پھر سے اک نئی دھونی رمانا چاہتا ہے
اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا
پھر ایسا مسیحا تو مسیحا نہیں ہوتا
قسمت کا دھنی تھا میں تبھی جیت لی بازی
ایسا نہیں ہوتا جو میں ایسا نہیں ہوتا
وہ چاک گریباں مرا لوگوں کو دکھاتے
سیتا ہے مگر سوئی میں دھاگہ نہیں ہوتا
پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے
ہو رہی ہے مجھ سے خوشبو بھی جدا آہستہ سے
قربتیں تھیں، پھر بھی لگتا ہے ہمارے درمیاں
آ کے حائل ہو گیا اک فاصلہ آہستہ سے
اک معمہ ہے چمن سے اس پرندے کا سفر
شام کو جو آشیاں سے اڑ گیا آہستہ سے
قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں
مجھے مِری بے نیازیوں پر ندامتیں بھی بہت ہوئی ہیں
یہ مت سمجھنا کہ آنسوؤں ہی سے بھیگ جاتی ہیں اس کی پلکیں
کہ بارہا چشمِ نم سے اس کی کرامتیں بھی بہت ہوئی ہیں
عجب تماشا ہے ظلم سہہ کر بھی سارے مظلوم مطمئن ہیں
انہیں کی جانب سے قاتلوں کی ضمانتیں بھی بہت ہوئی ہیں