Tuesday, 23 March 2021

قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں

 قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں

مجھے مِری بے نیازیوں پر ندامتیں بھی بہت ہوئی ہیں

یہ مت سمجھنا کہ آنسوؤں ہی سے بھیگ جاتی ہیں اس کی پلکیں

کہ بارہا چشمِ نم سے اس کی کرامتیں بھی بہت ہوئی ہیں

عجب تماشا ہے ظلم سہہ کر بھی سارے مظلوم مطمئن ہیں

انہیں کی جانب سے قاتلوں کی ضمانتیں بھی بہت ہوئی ہیں

محبتوں میں خموشیاں ہی جواب ہوتی ہیں معترض کا

اگرچہ کچھ بے ارادہ مجھ سے وضاحتیں بھی بہت ہوئی ہیں

ہوئی ہے اظہارِ آرزو میں خطائے تاخیر اس لیے بھی

رہِ تمنا اُجالنے میں طوالتیں بھی بہت ہوئی ہیں

شہاب ساحل سے باندھ رکھو ابھی پرانی وہ ناؤ اپنی

کہ جس پہ طوفانی ندیوں میں مسافتیں بھی بہت ہوئی ہیں


مصطفیٰ شہاب

No comments:

Post a Comment