Showing posts with label فانی جودھپوری. Show all posts
Showing posts with label فانی جودھپوری. Show all posts

Thursday, 8 December 2022

یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف

 یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف

تُراب میری طرف، اور آب اس کی طرف

نہ جانے کس نے بنائی ہے دوغلی تصویر

ہیں خار میری طرف اور گلاب اس کی طرف

یوں اپنا نامۂ اعمال کر لیا تقسیم

گُناہ میری طرف ہیں، ثواب اس کی طرف

Wednesday, 8 December 2021

دل کے معاملات نمٹنے کی رات ہے

 دل کے معاملات نمٹنے کی رات ہے

جو کل گیا تھا اس کے پلٹنے کی رات ہے

اس کو میں اینے ساتھ رکھوں کس طرح بھلا

یہ رات اپنے آپ سے کٹنے کی رات ہے

جب نیند آ رہی ہے تو آئیں گے خواب بھی

یعنی تبرکات کے بٹنے کی رات ہے

Thursday, 18 March 2021

دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

 دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

ہم تک چہرے عمر بدل کر آتے ہیں

جمے ہیں جو چہرے آنکھوں کی کوروں پہ

آؤ ان کو گیت، غزل کر آتے ہیں

جب کرنیں پانی پہ دستک دیتی ہیں

لہروں پہ گرداب اچھل کر آتے ہیں

Monday, 15 March 2021

لالچ سے اور جور و جفا سے نہیں بنی

 لالچ سے اور جور و جفا سے نہیں بنی

اپنی زمین والے خدا سے نہیں بنی

خوشیوں کے ساتھ رہ نہ سکے ایک پَل کبھی

یعنی چراغیوں کی ہوا سے نہیں بنی

سُننے کی حد تلک اسے اک بار کیا سُنا

کانوں کی پھر کسی بھی صدا سے نہیں بنی

Sunday, 14 March 2021

اک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے

 اک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے

شہر کی اک نئی تفسیر ہوئی جاتی ہے

اے مِرے عزمِ سفر کھینچ کہ لے جا مجھ کو

اک قسم پاؤں کی زنجیر ہوئی جاتی ہے

کھینچنے آئی ہے اب موت مِرے دامن کو

آپ کے خواب کی تعبیر ہوئی جاتی ہے

Saturday, 13 March 2021

چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا

 چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا

وہ مجھ سے دور ہو جاتا میں اس سے دور ہو جاتا

ہنر ہاتھوں سے چکنے کا بچا کر لے گیا مجھ کو

بھروسے پاؤں کے رہتا تو میں معذور ہو جاتا

زمانے بھر کی باتوں کو اگر دل سے لگا لیتا

جہاں پہ دل دھڑکتا ہے وہاں ناسور ہو جاتا

Friday, 12 March 2021

کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے

 کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے

دنیا کا دستور نبھانا پڑتا ہے

اثر وقت کا چہرے پہ دکھلانے کو

آئینے⌗ کو آگے آنا پڑتا ہے

اپنی آنکھیں مریں نہ بھوکی اس خاطر

کچھ چہروں کو روز کمانا پڑتا ہے

Thursday, 11 March 2021

دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

 دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

ہم تک چہرے عمر بدل کر آتے ہیں

جمے ہیں جو چہرے آنکھوں کی کوروں پہ

آؤ، ان کو گیت غزل کر آتے ہیں

جب کرنیں پانی پہ دستک دیتی ہیں

لہروں پہ گرداب اُچھل کر آتے ہیں

Wednesday, 10 March 2021

فضا کہ ہاتھ میں رکھ کر اڑان کی خوشبو

 فضا کہ ہاتھ میں رکھ کر اُڑان کی خوشبو

بدن پہ لے کہ میں اُترا تھکان کی خوشبو

میں مل رہا ہوں بہت دیر سے زمیں لیکن

پروں سے جاتی نہیں آسمان کی خوشبو

اِدھر عبور کیا پچھلی آزمائش کو

اُدھر سے آئی نئے امتحان کی خوشبو