Showing posts with label مشتاق شاد. Show all posts
Showing posts with label مشتاق شاد. Show all posts

Wednesday, 7 January 2026

کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے

 کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے

وہ جو دیتا ہے تو پھر کشتیاں بھر دیتا ہے

ہم تو بس دل کو سنبھالا سا دئیے جاتے ہیں

یہ وہی ہے جو تڑپنے کا جگر دیتا ہے

میں اسے دل کی نگاہوں سے پڑھا کرتا ہوں

وہ مجھے آنکھ نہیں، ذوقِ نظر دیتا ہے

Thursday, 2 October 2025

لفظ جب تک وضو نہیں کرتے

 لفظ جب تک وضو نہیں کرتے

ہم تِری گفتگو نہیں کرتے

شوق ہے نا تمام جب تک ہم

اشکِ دل تک لہو نہیں کرتے

درد سارے عزیز ہیں تیرے

زخم کوئی رفو نہیں کرتے

Tuesday, 30 September 2025

لہو رواں ہے تو نبضیں رکی ہوئی کیوں ہیں

 لہو رواں ہے تو نبضیں رکی ہوئی کیوں ہیں

ہوا چلی ہے تو سانسیں گھٹی ہوئی کیوں ہیں

بلندیوں پہ اگر کوئی جا نہیں سکتا

تو پھر پہاڑ پہ راہیں بنی ہوئی کیوں ہیں

ابھی تو پاؤں سے کانٹے نکالنے ہیں مجھے

نظر کے سامنے کلیاں پڑی ہوئی کیوں ہیں

Sunday, 28 September 2025

زخم تھوڑی سی خوشی دے کے چلے جاتے ہیں

 زخم تھوڑی سی خوشی دے کے چلے جاتے ہیں

خشک آنکھوں کو نمی دے کے چلے جاتے ہیں

روز آتے ہیں اجالے مِرے اندھے گھر میں

روز اک تیرہ شبی دے کے چلے جاتے ہیں

ان کرائے کے گھروں سے تو میں بے گھر اچھا

نت نئی دربدری دے کے چلے جاتے ہیں