کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے
وہ جو دیتا ہے تو پھر کشتیاں بھر دیتا ہے
ہم تو بس دل کو سنبھالا سا دئیے جاتے ہیں
یہ وہی ہے جو تڑپنے کا جگر دیتا ہے
میں اسے دل کی نگاہوں سے پڑھا کرتا ہوں
وہ مجھے آنکھ نہیں، ذوقِ نظر دیتا ہے
کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے
وہ جو دیتا ہے تو پھر کشتیاں بھر دیتا ہے
ہم تو بس دل کو سنبھالا سا دئیے جاتے ہیں
یہ وہی ہے جو تڑپنے کا جگر دیتا ہے
میں اسے دل کی نگاہوں سے پڑھا کرتا ہوں
وہ مجھے آنکھ نہیں، ذوقِ نظر دیتا ہے
لفظ جب تک وضو نہیں کرتے
ہم تِری گفتگو نہیں کرتے
شوق ہے نا تمام جب تک ہم
اشکِ دل تک لہو نہیں کرتے
درد سارے عزیز ہیں تیرے
زخم کوئی رفو نہیں کرتے
لہو رواں ہے تو نبضیں رکی ہوئی کیوں ہیں
ہوا چلی ہے تو سانسیں گھٹی ہوئی کیوں ہیں
بلندیوں پہ اگر کوئی جا نہیں سکتا
تو پھر پہاڑ پہ راہیں بنی ہوئی کیوں ہیں
ابھی تو پاؤں سے کانٹے نکالنے ہیں مجھے
نظر کے سامنے کلیاں پڑی ہوئی کیوں ہیں
زخم تھوڑی سی خوشی دے کے چلے جاتے ہیں
خشک آنکھوں کو نمی دے کے چلے جاتے ہیں
روز آتے ہیں اجالے مِرے اندھے گھر میں
روز اک تیرہ شبی دے کے چلے جاتے ہیں
ان کرائے کے گھروں سے تو میں بے گھر اچھا
نت نئی دربدری دے کے چلے جاتے ہیں