Wednesday, 7 January 2026

کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے

 کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے

وہ جو دیتا ہے تو پھر کشتیاں بھر دیتا ہے

ہم تو بس دل کو سنبھالا سا دئیے جاتے ہیں

یہ وہی ہے جو تڑپنے کا جگر دیتا ہے

میں اسے دل کی نگاہوں سے پڑھا کرتا ہوں

وہ مجھے آنکھ نہیں، ذوقِ نظر دیتا ہے

مل کے کرتے ہیں دعا چاند ستارے شب بھر

اور وہ صبح کے تارے کو سحر دیتا ہے

لوگ دیتے ہیں تو بس اذنِ سفر دیتے ہیں

وہ ہر اک راہ میں سامانِ سفر دیتا ہے

میں اسے اب بھی نہیں جانتا وہ کون ہے شاد

وہ مجھے اپنی نہیں، میری خبر دیتا ہے


مشتاق شاد

No comments:

Post a Comment