کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے
وہ جو دیتا ہے تو پھر کشتیاں بھر دیتا ہے
ہم تو بس دل کو سنبھالا سا دئیے جاتے ہیں
یہ وہی ہے جو تڑپنے کا جگر دیتا ہے
میں اسے دل کی نگاہوں سے پڑھا کرتا ہوں
وہ مجھے آنکھ نہیں، ذوقِ نظر دیتا ہے
مل کے کرتے ہیں دعا چاند ستارے شب بھر
اور وہ صبح کے تارے کو سحر دیتا ہے
لوگ دیتے ہیں تو بس اذنِ سفر دیتے ہیں
وہ ہر اک راہ میں سامانِ سفر دیتا ہے
میں اسے اب بھی نہیں جانتا وہ کون ہے شاد
وہ مجھے اپنی نہیں، میری خبر دیتا ہے
مشتاق شاد
No comments:
Post a Comment