تیرا سلوک مجھ سے ہے اغیار کی طرح
آنکھوں میں جو کھٹکتا ہوں میں خار کی طرح
مبہم ہر ایک بات صنم کی لگے مجھے
اقرار بھی لگے مجھے انکار کی طرح
شطرنج جیسی مجھ کو لگے ہے یہ زندگی
چلنا ہر ایک چال سمجھدار کی طرح
شاعر سمجھ کے تجھ کو بلایا تھا بزم میں
غزلوں کو یوں نہ گا تو گلوکار کی طرح
ہوش و حواس گم ہیں جو اس کے فراق میں
خود کو سمجھ رہا ہوں میں بیمار کی طرح
سائل تمہارے در پہ جو آئے کبھی ذکی
اس کو نوازئیے کسی دلدار کی طرح
قابو میں رکھ زبان کو اپنی سدا ذکی
رشتوں کو کاٹتی ہے یہ تلوار کی طرح
کوکب ذکی
No comments:
Post a Comment