Saturday, 31 January 2026

آنکھوں میں جو کھٹکتا ہوں میں خار کی طرح

 تیرا سلوک مجھ سے ہے اغیار کی طرح

آنکھوں میں جو کھٹکتا ہوں میں خار کی طرح

مبہم ہر ایک بات صنم کی لگے مجھے

اقرار بھی لگے مجھے انکار کی طرح

شطرنج جیسی مجھ کو لگے ہے یہ زندگی

چلنا ہر ایک چال سمجھدار کی طرح

شاعر سمجھ کے تجھ کو بلایا تھا بزم میں

غزلوں کو یوں نہ گا تو گلوکار کی طرح

ہوش و حواس گم ہیں جو اس کے فراق میں

خود کو سمجھ رہا ہوں میں بیمار کی طرح

سائل تمہارے در پہ جو آئے کبھی ذکی

اس کو نوازئیے کسی دلدار کی طرح

قابو میں رکھ زبان کو اپنی سدا ذکی

رشتوں کو کاٹتی ہے یہ تلوار کی طرح


کوکب ذکی

No comments:

Post a Comment