Friday, 30 January 2026

دریا پہ بارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا

 دریا پہ بارشوں کا اثر کُچھ نہیں ہوا

مجھ پر بھی سازشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا

دُنیا نے کوششیں تو بہت کیں مگر جناب

ان پر سفارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا

دل چِیر کر بھی میں نے دِکھایا اسے مگر

ظالم پہ خواہشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا

وہ میرے ہر سوال پہ پتھر بنا رہا

ناداں پہ پُرسشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا

سنتوش میں نے ڈھونڈا اسے ہر دیار میں

پر میری کاوشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا


سنتوش کھروڑکر

No comments:

Post a Comment