Thursday, 29 January 2026

چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے

 چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے

اپنے سائے پہ بھی قاتل کا گماں ہے اب کے

جو کبھی شہر میں خورشید بکف بھرتا تھا

کوئی بتلائے کہ وہ شخص کہاں ہے اب کے

کہکشاں لفظوں کی ہونٹوں پہ بکھرنے دیجے

دور تک ذہن کی گلیوں میں دھواں ہے اب کے

لوگ آنکھوں میں نئے خواب لئے پھرتے ہیں

کچھ نہ ہونے پہ بھی ہونے کا گماں ہے اب کے

میرے ماضی نے مجھے یاد کیا ہے شاید

اک خلش ہے کہ قریب رگ جاں ہے اب کے

وقت کیا وقت سے امید کرم کیا خسرو

وقت حالات کا خود مرثیہ خواں ہے اب کے


امیر احمد خسرو

No comments:

Post a Comment