Thursday, 29 January 2026

عشق کام اپنا کر گیا شاید

 عشق کام اپنا کر گیا شاید

مر رہا تھا تو مر گیا شاید

منتظِر اب بھی انتظار میں ہے

تھٙک کے وہ منتظر گیا شاید

صرف ویرانیاں ہیں، وحشت ہے

ہم سفر پیشتر گیا شاید

اِک نیا درد، دل سے اُٹھتا ہے

بالیں سے چارہ گر گیا شاید

اپنی منزل پہ نقشِ پا دیکھا

کوئی یاں سے گزر گیا شاید

چاند کی روشنی بھی ماند پڑی

آج وہ بن سنور گیا شاید

زخم سہنے کا حوصلہ نہ رہا

دل گیا تو جگر گیا شاید

جس کو قلبِ سلیم کہتے ہیں

عشق کرنے سے ڈر گیا شاید


سلیم عباس قادر

No comments:

Post a Comment