Sunday, 25 January 2026

رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ

 رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ

وابستگی نہیں ہے کسی کی کسی کے ساتھ

ٹوٹا ہے اک ستارہ ابھی آسمان سے

پھر بیوفائی کی ہے کسی نے کسی کے ساتھ

روشن گھروں میں بانٹ دی پھر روشنی تمام

انصاف یہ ہوا ہے مری تیرگی کے ساتھ

اتنی تہیں کھلی ہیں کہ کھلتی چلی گئیں

اک بات اس نے کی تھی بڑی سادگی کے ساتھ

اس کی تلاش اس کی طلب اس کا ذکر خیر

در پردہ بندگی ہے مری شاعری کے ساتھ


ماجد علی کاوش

No comments:

Post a Comment