خُوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے
مرحبا سُنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے
ہو کھرا بانٹ تو تُلنے سے نہیں کوئی گُریز
ہاں مگر جُنبشِ پاسنگ سے ڈر لگتا ہے
مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں
اہلِ ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے
خُوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے
مرحبا سُنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے
ہو کھرا بانٹ تو تُلنے سے نہیں کوئی گُریز
ہاں مگر جُنبشِ پاسنگ سے ڈر لگتا ہے
مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں
اہلِ ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے
زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں
صورت تصویر میں بھی آئینہ خانے میں ہوں
یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا
یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں
ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام
دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں
بس در و دیوار مل جاتے ہیں گھر ملتا نہیں
ایسا دستاروں کا جمگھٹ ہے کہ سر ملتا نہیں
خواہ دونوں ساتھ مل کر طے کریں یہ فاصلہ
اے ہوا! تجھ کو بھی کوئی ہمسفر ملتا نہیں
قمقموں کی آنچ نے پگھلا دئیے منظر تمام
چاند اب کوئی کسی بھی بام پر ملتا نہیں
رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے
اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے
جو جنگ چھڑی تھی اسے جیتے بھی ہمیں لوگ
رن چھوڑ کے بھاگے وہ سپاہی بھی ہمیں تھے
وہ شہر بسا بھی تھا ہماری ہی بدولت
اس شہر تمنا کی تباہی بھی ہمیں تھے
زخم سنتے ہیں لہو بولتا ہے
چاک چپ ہے تو رفو بولتا ہے
خامشی ایسی کہ دیکھی نہ سنی
ہر طرف عالم ہُو بولتا ہے
خواب سمجھوں کہ حقیقت اس کو
اک پرندہ لبِ جُو بولتا ہے