Showing posts with label نسیم صدیقی. Show all posts
Showing posts with label نسیم صدیقی. Show all posts

Thursday, 15 January 2026

خوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے

 خُوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے

مرحبا سُنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے

ہو کھرا بانٹ تو تُلنے سے نہیں کوئی گُریز

ہاں مگر جُنبشِ پاسنگ سے ڈر لگتا ہے

مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں

اہلِ ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے

Wednesday, 31 December 2025

زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

 زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

صورت تصویر میں بھی آئینہ خانے میں ہوں

یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا

یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں

ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام

دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں

Friday, 10 October 2025

بس در و دیوار مل جاتے ہیں گھر ملتا نہیں

 بس در و دیوار مل جاتے ہیں گھر ملتا نہیں

ایسا دستاروں کا جمگھٹ ہے کہ سر ملتا نہیں

خواہ دونوں ساتھ مل کر طے کریں یہ فاصلہ

اے ہوا! تجھ کو بھی کوئی ہمسفر ملتا نہیں

قمقموں کی آنچ نے پگھلا دئیے منظر تمام

چاند اب کوئی کسی بھی بام پر ملتا نہیں

Monday, 6 October 2025

رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے

 رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے

اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے

جو جنگ چھڑی تھی اسے جیتے بھی ہمیں لوگ

رن چھوڑ کے بھاگے وہ سپاہی بھی ہمیں تھے

وہ شہر بسا بھی تھا ہماری ہی بدولت

اس شہر تمنا کی تباہی بھی ہمیں تھے

Sunday, 5 October 2025

زخم سنتے ہیں لہو بولتا ہے

 زخم سنتے ہیں لہو بولتا ہے

چاک چپ ہے تو رفو بولتا ہے

خامشی ایسی کہ دیکھی نہ سنی

ہر طرف عالم ہُو بولتا ہے

خواب سمجھوں کہ حقیقت اس کو

اک پرندہ لبِ جُو بولتا ہے