Sunday, 13 September 2026

جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

 جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے

یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے

سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے

چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا

یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے

راہزن ہی سہی راہ منزل میں وہ

سوچتا ہوں مرا ہمسفر ہی تو ہے

تم تو دامن بچاتے ہو اب اس طرح

جیسے آنسو نہیں یہ شرر ہی تو ہے

چلتے رہیے جہاں تک ملے روشنی

زندگی حسن کی رہگزر ہی تو ہے

تیرگی ہی کو ناظم لگاؤ گلے

یہ بھی تعبیر خواب سحر ہی تو ہے


ناظم سلطانپوری

No comments:

Post a Comment