عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چشم کرم حضورؐ کی فیضانِ نعت ہے
رزقِ سخن مِلا جو یہ احسانِ نعت ہے
لِکھی ثناء تو ہو گئے الفاظ نُور نُور
اور جگمگا اُٹھا میرا دِیوانِ نعت ہے
مِدحت کے پُھول بے بہا دامن میں آ گئے
کِتنا وسیع اُنﷺ کا گُلستانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چشم کرم حضورؐ کی فیضانِ نعت ہے
رزقِ سخن مِلا جو یہ احسانِ نعت ہے
لِکھی ثناء تو ہو گئے الفاظ نُور نُور
اور جگمگا اُٹھا میرا دِیوانِ نعت ہے
مِدحت کے پُھول بے بہا دامن میں آ گئے
کِتنا وسیع اُنﷺ کا گُلستانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گر شاہِ دو عالمؐ کے سہارے نہیں ہوتے
اُمت کے کبھی وارے نیارے نہیں ہوتے
پھر چاند کہاں ٹُوٹ کے جُڑتا مِرے آقاﷺ
گر آپِ کی اُنگلی کے اشارے نہیں ہوتے
سرکارؐ کی نگری کا بیاں حُسن ہو کیسے
ایسے تو کہیں اور نظارے نہیں ہوتے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عشقِ احمدﷺ کا دِیا دل میں جلائے رکھوں
ہر گھڑی ذِکر کی محفل بھی سجائے رکھوں
کاش قدموں میں بُلا لیں مجھے سرکارِ جہاں
پھر اسی در پہ جبیں اپنی جُھکائے رکھوں
باغِ طیبہ سے چُنوں روز ثناء کی کلیاں
خُود کو بس نعت نگاری میں لگائے رکھوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ نام اس دل میں جڑا مثلِ نگینہ ہے
اسی کا وِرد کرتی ہوں، یہی میرا خزینہ ہے
سدا ملتی ہی رہتی ہے مجھے خیرات جلووں کی
انہی کے نُور سے روشن نظر کا آبگینہ ہے
تصوّر میں ہمیشہ سامنے ہے والضحیٰ چہرہ
حقیقت میں بھی تو دیکھوں مِری حسرت دیرینہ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حضوری کا بنے کوئی بہانہ یا رسول اللہﷺ
تو میناروں کا دیکھوں جگمگانا یا رسول اللہ
مِرے آقاؐ زیارت کو ترستی ہیں مِری آنکھیں
زیارت کا عطا ہو آب و دانہ، یا رسول اللہ
سُنہری جالیوں میں وہ چمکتی نُور کی کِرنیں
کبھی دیکھوں میں یہ منظر سُہانا یا رسول اللہ
یا الٰہی رحم کر مقبول ہو سب کی دُعا
خوف کا سایہ اُٹھا لے دور کر دے یہ وبا
ہم گُناہوں میں گِھرے ہیں تُو بڑا غفّار ہے
تیری بخشش کی نہیں میرے خُدایا انتہا
قادرِ مُطلق ہے تُو، تیرا کرم ہے بے کراں
صدقۂ حسنینؑ دے سارے بیماروں کو شفا