یہی تیری رحمت صِلہ دے رہی ہے
مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے
تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا
ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے
میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا
محبت تِری اب سزا دے رہی ہے
یہی تیری رحمت صِلہ دے رہی ہے
مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے
تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا
ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے
میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا
محبت تِری اب سزا دے رہی ہے
یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے
مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے
تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا
ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے
میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا
محبت تِری اب سزا دے رہی ہے
کہ جس میں محبت ضروری نہیں ہے
مجھے وہ عبادت ضروری نہیں ہے
میں بے انتہا چاہتا ہوں اسی کو
کرے وہ محبت ضروری نہیں ہے
مجھے تو ہی تو یاد آتا رہے بس
زیادہ عنایت ضروری نہیں ہے
یہ مرض عشق کا بنا کیوں ہے
درد ہی درد کی دوا کیوں ہے
اس کا ملنا اگر ہے نا ممکن
اس سے ہی عشق پھر ہوا کیوں ہے
پل دو پل ہی اسے نہارا تھا
عمر بھر کی مِری سزا کیوں ہے
یہ نتیجے تھے دل لگانے کے
اشک بہتے رہے دِیوانے کے
کون سے درد تم کو دِکھلاؤں
کچھ تمہارے ہیں کچھ زمانے کے
لے نشانہ وہ جو تو کیا ہو گا
ہم ہیں گھائل بِنا نشانے کے