Showing posts with label راج کوشک. Show all posts
Showing posts with label راج کوشک. Show all posts

Tuesday, 27 October 2026

یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے

 یہی تیری رحمت صِلہ دے رہی ہے

مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے

تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا

ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے

میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا

محبت تِری اب سزا دے رہی ہے

Sunday, 7 December 2025

یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے

 یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے

مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے

تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا

ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے

میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا

محبت تِری اب سزا دے رہی ہے

Saturday, 18 October 2025

کہ جس میں محبت ضروری نہیں ہے

 کہ جس میں محبت ضروری نہیں ہے

مجھے وہ عبادت ضروری نہیں ہے

میں بے انتہا چاہتا ہوں اسی کو

کرے وہ محبت ضروری نہیں ہے

مجھے تو ہی تو یاد آتا رہے بس

زیادہ عنایت ضروری نہیں ہے

Tuesday, 26 November 2024

یہ مرض عشق کا بنا کیوں ہے

 یہ مرض عشق کا بنا کیوں ہے

درد ہی درد کی دوا کیوں ہے

اس کا ملنا اگر ہے نا ممکن

اس سے ہی عشق پھر ہوا کیوں ہے

پل دو پل ہی اسے نہارا تھا

عمر بھر کی مِری سزا کیوں ہے

Monday, 25 November 2024

یہ نتیجے تھے دل لگانے کے

 یہ نتیجے تھے دل لگانے کے

اشک بہتے رہے دِیوانے کے

کون سے درد تم کو دِکھلاؤں

کچھ تمہارے ہیں کچھ زمانے کے 

لے نشانہ وہ جو تو کیا ہو گا

ہم ہیں گھائل بِنا نشانے کے