Showing posts with label نذیر نظر. Show all posts
Showing posts with label نذیر نظر. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

وہ شعر سن کے مرا ہو گیا دوانہ کیا

 وہ شعر سن کے مِرا ہو گیا دِوانہ کیا

میں سچ کہوں گا تو مانے گا یہ زمانہ کیا

کبھی تو آنا ہے دنیا کے سامنے اس کو

اب اس کو ڈھونڈھنے دَیر و حرم میں جانا کیا

سنا ہے کام چلاتے ہو تم بہانوں سے

اُدھار دو گے مجھے بھی کوئی بہانہ کیا

Sunday, 25 April 2021

بن کے اک مصرعۂ نمناک نظر تک پہنچا

 بن کے اک مصرعۂ نمناک نظر تک پہنچا

موجزن عشق مِرا عرش و قمر تک پہنچا

اشتہاروں میں ہی گم ہو گئی کل آوازیں

سب نے بس دیکھا سنا کون خبر تک پہنچا

حکمرانوں کو فقط ووٹ سے مطلب، ورنہ

کس نے مُفلس کی سُنی، کون ادھر تک پہنچا

Saturday, 24 April 2021

کیا تم نے بھی ہے کل رتجگا کیا

کیا تم نے بھی ہے کل رتجگا کیا

تمہیں بھی عشق ہم سے ہو گیا کیا

مِرا تُو مُدعا تُو مسئلہ تھی

بِچھاتا گر تجھے تو اوڑھتا کیا

یہاں جس کو بھی دیکھو زعم میں ہے

ہمارے شہر کو آخر ہوا کیا

جیت کر بھی پھر سے ہاری زندگی

 جیت کر بھی پھر سے ہاری زندگی

پوچھئے مت کیوں گزاری زندگی

اک مہاجن سب کے اوپر ہے کھڑا

جس نے ہم کو دی ادھاری زندگی

چونا کتھا لگ رہا ہے آئے دن

پان، بیڑی اور سُپاری زندگی

Friday, 23 April 2021

اگر وہ حادثہ پھر سے ہوا تو

 اگر وہ حادثہ پھر سے ہوا تو

میں تیرے عشق میں پھر پڑ گیا تو

کہ اس کا رُوٹھنا بھی لازمی ہے

منا لوں گا اگر ہو گا خفا تو

مِری اُلجھن سُلجھتی جا رہی ہے

دِکھایا ہے تمہی نے راستہ تو