وہ شعر سن کے مِرا ہو گیا دِوانہ کیا
میں سچ کہوں گا تو مانے گا یہ زمانہ کیا
کبھی تو آنا ہے دنیا کے سامنے اس کو
اب اس کو ڈھونڈھنے دَیر و حرم میں جانا کیا
سنا ہے کام چلاتے ہو تم بہانوں سے
اُدھار دو گے مجھے بھی کوئی بہانہ کیا
وہ شعر سن کے مِرا ہو گیا دِوانہ کیا
میں سچ کہوں گا تو مانے گا یہ زمانہ کیا
کبھی تو آنا ہے دنیا کے سامنے اس کو
اب اس کو ڈھونڈھنے دَیر و حرم میں جانا کیا
سنا ہے کام چلاتے ہو تم بہانوں سے
اُدھار دو گے مجھے بھی کوئی بہانہ کیا
بن کے اک مصرعۂ نمناک نظر تک پہنچا
موجزن عشق مِرا عرش و قمر تک پہنچا
اشتہاروں میں ہی گم ہو گئی کل آوازیں
سب نے بس دیکھا سنا کون خبر تک پہنچا
حکمرانوں کو فقط ووٹ سے مطلب، ورنہ
کس نے مُفلس کی سُنی، کون ادھر تک پہنچا
کیا تم نے بھی ہے کل رتجگا کیا
تمہیں بھی عشق ہم سے ہو گیا کیا
مِرا تُو مُدعا تُو مسئلہ تھی
بِچھاتا گر تجھے تو اوڑھتا کیا
یہاں جس کو بھی دیکھو زعم میں ہے
ہمارے شہر کو آخر ہوا کیا
جیت کر بھی پھر سے ہاری زندگی
پوچھئے مت کیوں گزاری زندگی
اک مہاجن سب کے اوپر ہے کھڑا
جس نے ہم کو دی ادھاری زندگی
چونا کتھا لگ رہا ہے آئے دن
پان، بیڑی اور سُپاری زندگی
اگر وہ حادثہ پھر سے ہوا تو
میں تیرے عشق میں پھر پڑ گیا تو
کہ اس کا رُوٹھنا بھی لازمی ہے
منا لوں گا اگر ہو گا خفا تو
مِری اُلجھن سُلجھتی جا رہی ہے
دِکھایا ہے تمہی نے راستہ تو