Saturday, 24 April 2021

جیت کر بھی پھر سے ہاری زندگی

 جیت کر بھی پھر سے ہاری زندگی

پوچھئے مت کیوں گزاری زندگی

اک مہاجن سب کے اوپر ہے کھڑا

جس نے ہم کو دی ادھاری زندگی

چونا کتھا لگ رہا ہے آئے دن

پان، بیڑی اور سُپاری زندگی

اک طرف محمود سا انداز ہے

اک طرف مینا کماری زندگی

ہو گئی ہے اس ہنی سے بور جب

پھر تو بس راحت پکاری زندگی

چین کی پھر نیند آئی قبر میں

اپنے تن سے جب اتاری زندگی


نذیر نظر

No comments:

Post a Comment