Saturday, 24 April 2021

اس سے بڑھ کر تو اذیت نہیں دیکھی جاتی

 اس سے بڑھ کر تو اذیت نہیں دیکھی جاتی

یہ تِرے لہجے کی حدت نہیں دیکھی جاتی

پہن ایسا کہ بدن تک بھی دکھائی دے ہے

اس نئے دور کی جدت نہیں دیکھی جاتی

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ بھی تو ہنس کر جانا

اس کی آنکھوں کی یہ حسرت نہیں دیکھی جاتی

وہ مِرے منہ پہ جو کہتا سو سہہ لیتا میں بھی

ورنہ مجھ سے تو یہ غیبت نہیں دیکھی جاتی

غیر تو غیر ہیں غیروں سے شکایت کیسی

میرے اپنوں سے بھی شہرت نہیں دیکھی جاتی

بے حیائی ہے ہر اک گام پہ رقصاں اب تو

عصرِ حاضر میں شرافت نہیں دیکھی جاتی

زخم اپنوں کے بہت سہ لیے ہم نے، لیکن

اب تو سانپوں کی یہ فطرت نہیں دیکھی جاتی


راشد خان عاشر 

No comments:

Post a Comment