جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر
انہیں کے نام کیا حق نے بندگی کا سفر
جہاں پہ لوگ اندھیرے سجائے بیٹھے تھے
وہاں پہ آج بھی جاری ہے روشنی کا سفر
ابھی ہے وقت سنبھل جاؤ اے جہاں والو
کہیں تمام نہ ہو جائے آدمی کا سفر
جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر
انہیں کے نام کیا حق نے بندگی کا سفر
جہاں پہ لوگ اندھیرے سجائے بیٹھے تھے
وہاں پہ آج بھی جاری ہے روشنی کا سفر
ابھی ہے وقت سنبھل جاؤ اے جہاں والو
کہیں تمام نہ ہو جائے آدمی کا سفر
اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر
زرد ریگستان میں پھولوں کی افزائش نہ کر
یہ تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کی منزل ایک ہو
پھر بھی اس کے ہم سفر ہونے کی فرمائش نہ کر
منحصر اس پر بھی ہے وہ پاس آئے یا نہ آئے
اے مِرے دل قربتوں کی مجھ سے فرمائش نہ کر
دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ
مانگ لے رب سے مجھے اور مِری تقدیر میں آ
رابطہ مجھ سے دل و جاں کا اگر رکھنا ہے
مجھ سے وابستہ کسی حلقۂ زنجیر میں آ
میں بناتا ہوں تخیل کے قلم سے پیکر
میری تحریر مرے درد کی تصویر میں آ
ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو
مگر زباں پہ جو بات آئے سب پہ بھاری ہو
کسی کو ٹھیس نہ پہنچے یہ اپنی کوشش ہے
مگر لگے جو کسی دل پہ ضرب کاری ہو
رہِ حیات میں شاید ہی وہ مقام آئے
کہ نغمہ ہائے جنوں پر سکوت طاری ہو
خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے
مہکتے پھولوں کی خوشبو بھی آس پاس آئے
وفا محبتوں ایثار کی کتابوں میں
ہمارے پیار کے قصوں میں اقتباس آئے
وفا خلوص ادا حسن زلف اور نغمہ
خدا کرے یہی لہجہ غزل کو راس آئے
یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے
انسان کا انسان گلا کاٹ رہا ہے
دیکھو نہ ہمیں آج حقارت کی نظر سے
یارو! کبھی اپنا بھی بڑا ٹھاٹ رہا ہے
پہلے بھی میسر نہ تھا مزدور کو چھپر
اب نام پہ دیوار کے اک ٹاٹ رہا ہے