Showing posts with label انور کیفی. Show all posts
Showing posts with label انور کیفی. Show all posts

Thursday, 3 March 2022

جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر

 جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر

انہیں کے نام کیا حق نے بندگی کا سفر

جہاں پہ لوگ اندھیرے سجائے بیٹھے تھے

وہاں پہ آج بھی جاری ہے روشنی کا سفر

ابھی ہے وقت سنبھل جاؤ اے جہاں والو

کہیں تمام نہ ہو جائے آدمی کا سفر

Wednesday, 16 February 2022

اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر

 اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر

زرد ریگستان میں پھولوں کی افزائش نہ کر

یہ تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کی منزل ایک ہو

پھر بھی اس کے ہم سفر ہونے کی فرمائش نہ کر

منحصر اس پر بھی ہے وہ پاس آئے یا نہ آئے

اے مِرے دل قربتوں کی مجھ سے فرمائش نہ کر

Sunday, 6 February 2022

دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ

 دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ

مانگ لے رب سے مجھے اور مِری تقدیر میں آ

رابطہ مجھ سے دل و جاں کا اگر رکھنا ہے

مجھ سے وابستہ کسی حلقۂ زنجیر میں آ

میں بناتا ہوں تخیل کے قلم سے پیکر

میری تحریر مرے درد کی تصویر میں آ

Wednesday, 2 February 2022

ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو

 ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو

مگر زباں پہ جو بات آئے سب پہ بھاری ہو

کسی کو ٹھیس نہ پہنچے یہ اپنی کوشش ہے

مگر لگے جو کسی دل پہ ضرب کاری ہو

رہِ حیات میں شاید ہی وہ مقام آئے

کہ نغمہ ہائے جنوں پر سکوت طاری ہو

Tuesday, 1 February 2022

خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے

 خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے

مہکتے پھولوں کی خوشبو بھی آس پاس آئے

وفا محبتوں ایثار کی کتابوں میں

ہمارے پیار کے قصوں میں اقتباس آئے

وفا خلوص ادا حسن زلف اور نغمہ

خدا کرے یہی لہجہ غزل کو راس آئے

Thursday, 29 July 2021

یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے

 یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے

انسان کا انسان گلا کاٹ رہا ہے

دیکھو نہ ہمیں آج حقارت کی نظر سے

یارو! کبھی اپنا بھی بڑا ٹھاٹ رہا ہے

پہلے بھی میسر نہ تھا مزدور کو چھپر

اب نام پہ دیوار کے اک ٹاٹ رہا ہے