Wednesday, 2 February 2022

ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو

 ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو

مگر زباں پہ جو بات آئے سب پہ بھاری ہو

کسی کو ٹھیس نہ پہنچے یہ اپنی کوشش ہے

مگر لگے جو کسی دل پہ ضرب کاری ہو

رہِ حیات میں شاید ہی وہ مقام آئے

کہ نغمہ ہائے جنوں پر سکوت طاری ہو

وفا کا ذکر اگر آئے اس کی محفل میں

تو بات جو بھی ہو جیسی ہو بس ہماری ہے

تمام عمر گزاری ہے اس کی خدمت میں

ہمارے نام کا سکہ ادب میں جاری ہو

تِرے کرم سے ہمیشہ ہی خوش رہا انور

مِرے خدا نہ کبھی لب پہ آہ و زاری ہو


انور کیفی

No comments:

Post a Comment