Showing posts with label پریہ درشی خیال. Show all posts
Showing posts with label پریہ درشی خیال. Show all posts

Thursday, 24 April 2025

میری حالت پہ ذرا سا بھی نہ حیراں ہوتے

 میری حالت پہ ذرا سا بھی نہ حیراں ہوتے

آپ اگر میری طرح چاک گریباں ہوتے

جو نہیں ہوتا تِرے حسن کا پرتَو ان میں

پھر یہ گلشن مِری نظروں میں بیاباں ہوتے

ربط کی راہ میں تھا آگ کا دریا یا رب

راستے ترکِ تعلق کے تو آساں ہوتے

Sunday, 9 February 2025

کسی مزار پہ آ کر وہ رو نہیں سکتا

 کسی مزار پہ آ کر وہ رو نہیں سکتا

یہ کوئی اور ہے وہ شخص ہو نہیں سکتا

بیانِ رنج و الم میرا سن رہا ہے، مگر

وہ میری آنکھ کے آنسو تو رو نہیں سکتا

یہی بہت ہے اگر میرے ساتھ ساتھ چلے

وہ میرے بخت کے پتھر تو ڈھو نہیں سکتا

Friday, 8 November 2024

یہ تہلکہ سا خیالوں میں نہ اکثر ہوتا

 یہ تہلکہ سا خیالوں میں نہ اکثر ہوتا

دل کے بدلے مِرے پہلو میں جو پتھر ہوتا

نہ ملی چھانو تِری زُلف کی مجھ کو نہ سہی

تیری دیوار کا سایہ ہی میسر ہوتا

میری قسمت میں کٹھن راہ تھی میرے آگے

یہ جو صحرا نہیں ہوتا تو سمندر ہوتا

Monday, 4 November 2024

وہ یاد آئے مگر اس قدر نہ آیا کرے

 وہ یاد آئے مگر اس قدر نہ آیا کرے

کہ میری جان لبوں تک نہ کھینچ لایا کرے

نہ دے ثبوت نہ دعویٰ کرے، مگر مجھ کو

سزا سے پہلے وہ الزام تو بتایا کرے

نہیں ہے دوست کے کپڑوں میں وہ اگر دشمن

مِرا مذاق مِرے سامنے اڑایا کرے

Saturday, 2 November 2024

نہ کھیل اب کھیل تو میرے یقیں سے

 نہ کھیل اب کھیل تُو میرے یقیں سے

خُدا کے واسطے آ جا کہیں سے

یہ اچھی آگ اشکوں نے بُجھائی

دُھواں اُٹھنے لگا اب ہر کہیں سے

انہیں کو آسماں نے بھی ڈرایا

ڈرے سے تھے جو پہلے ہی زمیں سے