میری حالت پہ ذرا سا بھی نہ حیراں ہوتے
آپ اگر میری طرح چاک گریباں ہوتے
جو نہیں ہوتا تِرے حسن کا پرتَو ان میں
پھر یہ گلشن مِری نظروں میں بیاباں ہوتے
ربط کی راہ میں تھا آگ کا دریا یا رب
راستے ترکِ تعلق کے تو آساں ہوتے
میری حالت پہ ذرا سا بھی نہ حیراں ہوتے
آپ اگر میری طرح چاک گریباں ہوتے
جو نہیں ہوتا تِرے حسن کا پرتَو ان میں
پھر یہ گلشن مِری نظروں میں بیاباں ہوتے
ربط کی راہ میں تھا آگ کا دریا یا رب
راستے ترکِ تعلق کے تو آساں ہوتے
کسی مزار پہ آ کر وہ رو نہیں سکتا
یہ کوئی اور ہے وہ شخص ہو نہیں سکتا
بیانِ رنج و الم میرا سن رہا ہے، مگر
وہ میری آنکھ کے آنسو تو رو نہیں سکتا
یہی بہت ہے اگر میرے ساتھ ساتھ چلے
وہ میرے بخت کے پتھر تو ڈھو نہیں سکتا
یہ تہلکہ سا خیالوں میں نہ اکثر ہوتا
دل کے بدلے مِرے پہلو میں جو پتھر ہوتا
نہ ملی چھانو تِری زُلف کی مجھ کو نہ سہی
تیری دیوار کا سایہ ہی میسر ہوتا
میری قسمت میں کٹھن راہ تھی میرے آگے
یہ جو صحرا نہیں ہوتا تو سمندر ہوتا
وہ یاد آئے مگر اس قدر نہ آیا کرے
کہ میری جان لبوں تک نہ کھینچ لایا کرے
نہ دے ثبوت نہ دعویٰ کرے، مگر مجھ کو
سزا سے پہلے وہ الزام تو بتایا کرے
نہیں ہے دوست کے کپڑوں میں وہ اگر دشمن
مِرا مذاق مِرے سامنے اڑایا کرے
نہ کھیل اب کھیل تُو میرے یقیں سے
خُدا کے واسطے آ جا کہیں سے
یہ اچھی آگ اشکوں نے بُجھائی
دُھواں اُٹھنے لگا اب ہر کہیں سے
انہیں کو آسماں نے بھی ڈرایا
ڈرے سے تھے جو پہلے ہی زمیں سے