Showing posts with label امین الرحمٰن چغتائی. Show all posts
Showing posts with label امین الرحمٰن چغتائی. Show all posts

Friday, 7 July 2023

سر اٹھا لائیں گے سرکار اٹھا لائیں گے

 سر اٹھا لائیں گے سرکار اٹھا لائیں گے 

صرف گھر ہی نہیں گھر بار اٹھا لائیں گے  

دوست احباب سبھی لگنے لگیں بے گانے 

تم کو ماضی سی بھی بیزار اٹھا لائیں گے

شرم کے مارے اگر سرنہ چھپاتے وہ پھریں 

 کیا مِرے قتل کو تلوار اٹھا لائیں گے 

Sunday, 2 July 2023

کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں عاجزی کی نظر

 کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں عاجزی کی نظر

کسی نے ڈال تو دی مجھ پہ خودسری کی نظر

خدا کی دَین ہے جس کو دِیا، دِیا اُس نے

نظر یہ عاصی کی ، تو ہے وہ متقی کی نظر

ہے جس کو اپنی ہی گردن کے بال کی نہ خبر

علی السماء ہے دواں اس کی آگہی کی نظر

Thursday, 15 June 2023

تیرے بیمار ستم کو جاں بلب دیکھے گا کون

 تیرے بیمار ستم کو جاں بلب دیکھے گا کون

جاں جب جائے بدن سے اس کو تب دیکھے گا کون

دل یہی تب نغمہ گِیں تھا، ساتھ تھے حُسن و شباب

جس کو دیکھا تب نہیں تھا، اس کو اب دیکھے گا کون

ہو چکی جب نذر فُرقت کی گئی عمر عزیز

کون لمحوں کو گِنے گا روز و شب دیکھے گا کون

Tuesday, 13 June 2023

یار جانی، دشمن دل، جان جاں کوئی نہ ہو

 یار جانی، دشمن دل، جان جاں کوئی نہ ہو

قسمت نالاں، نصیب دشمناں، کوئی نہ ہو

بات کرنے کے لیے کیسے نہ ترسیگی زباں

جس جگہ، بندہ، فرشتہ، ہمزباں کوئی نہ ہو

ہم نشینی پر ہمارے ہو کوئی کیوں معترض

بات سن لینے پہ بھی مائل جہاں کوئی نہ ہو

Monday, 12 June 2023

عشق لگتا تھا ہمیں کام وہ آسان کہ بس

 عشق لگتا تھا ہمیں کام وہ آسان کہ بس

کر کے دیکھا تو ہوئے ایسے پشیمان کہ بس

آنکھ یہ اٹھ نہ سکی پھر کسی گُل کی جانب

میں نے دیکھا کسی چہرے پہ گُلستان کہ بس

کیوں مسیحا نہ اسے اپنا یہ دل جانے گا

مُردہ پیکر میں مِرے ڈال گیا جان کہ بس

Wednesday, 7 June 2023

کشف ان پر غیب سے جب کچھ فسانے ہو گئے

 کشف ان پر غیب سے جب کچھ فسانے ہو گئے

غیر کی تضحیک کے ہم بھی نشانے ہو گئے

کالعدم وہ زندگی کے دن سہانے ہو گئے

کیوں نیا ڈھونڈیں نہ وہ جب ہم پرانے ہو گئے

گھٹ گئی اوقات اپنی دوست جب آئے نئے

پہلے ان کے یار تھے ہم اب فلانے ہو گئے