سر اٹھا لائیں گے سرکار اٹھا لائیں گے
صرف گھر ہی نہیں گھر بار اٹھا لائیں گے
دوست احباب سبھی لگنے لگیں بے گانے
تم کو ماضی سی بھی بیزار اٹھا لائیں گے
شرم کے مارے اگر سرنہ چھپاتے وہ پھریں
کیا مِرے قتل کو تلوار اٹھا لائیں گے
سر اٹھا لائیں گے سرکار اٹھا لائیں گے
صرف گھر ہی نہیں گھر بار اٹھا لائیں گے
دوست احباب سبھی لگنے لگیں بے گانے
تم کو ماضی سی بھی بیزار اٹھا لائیں گے
شرم کے مارے اگر سرنہ چھپاتے وہ پھریں
کیا مِرے قتل کو تلوار اٹھا لائیں گے
کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں عاجزی کی نظر
کسی نے ڈال تو دی مجھ پہ خودسری کی نظر
خدا کی دَین ہے جس کو دِیا، دِیا اُس نے
نظر یہ عاصی کی ، تو ہے وہ متقی کی نظر
ہے جس کو اپنی ہی گردن کے بال کی نہ خبر
علی السماء ہے دواں اس کی آگہی کی نظر
تیرے بیمار ستم کو جاں بلب دیکھے گا کون
جاں جب جائے بدن سے اس کو تب دیکھے گا کون
دل یہی تب نغمہ گِیں تھا، ساتھ تھے حُسن و شباب
جس کو دیکھا تب نہیں تھا، اس کو اب دیکھے گا کون
ہو چکی جب نذر فُرقت کی گئی عمر عزیز
کون لمحوں کو گِنے گا روز و شب دیکھے گا کون
یار جانی، دشمن دل، جان جاں کوئی نہ ہو
قسمت نالاں، نصیب دشمناں، کوئی نہ ہو
بات کرنے کے لیے کیسے نہ ترسیگی زباں
جس جگہ، بندہ، فرشتہ، ہمزباں کوئی نہ ہو
ہم نشینی پر ہمارے ہو کوئی کیوں معترض
بات سن لینے پہ بھی مائل جہاں کوئی نہ ہو
عشق لگتا تھا ہمیں کام وہ آسان کہ بس
کر کے دیکھا تو ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
آنکھ یہ اٹھ نہ سکی پھر کسی گُل کی جانب
میں نے دیکھا کسی چہرے پہ گُلستان کہ بس
کیوں مسیحا نہ اسے اپنا یہ دل جانے گا
مُردہ پیکر میں مِرے ڈال گیا جان کہ بس
کشف ان پر غیب سے جب کچھ فسانے ہو گئے
غیر کی تضحیک کے ہم بھی نشانے ہو گئے
کالعدم وہ زندگی کے دن سہانے ہو گئے
کیوں نیا ڈھونڈیں نہ وہ جب ہم پرانے ہو گئے
گھٹ گئی اوقات اپنی دوست جب آئے نئے
پہلے ان کے یار تھے ہم اب فلانے ہو گئے