کشف ان پر غیب سے جب کچھ فسانے ہو گئے
غیر کی تضحیک کے ہم بھی نشانے ہو گئے
کالعدم وہ زندگی کے دن سہانے ہو گئے
کیوں نیا ڈھونڈیں نہ وہ جب ہم پرانے ہو گئے
گھٹ گئی اوقات اپنی دوست جب آئے نئے
پہلے ان کے یار تھے ہم اب فلانے ہو گئے
آرزو کی ہمدمی میں موت جب آئی نظر
ہوش کے معدوم تب اپنے ٹھکانے ہو گئے
کر دکھایا کام اپنا گرمئ حالات نے
منجمد خوابوں کے اپنے تانے بانے ہو گئے
عشق کی خانہ خرابی کا ہے قصہ مختصر
بات کچھ منہ سے نہ نکلی تھی فسانے ہو گئے
امین الرحمٰن چغتائی
No comments:
Post a Comment