Wednesday, 7 June 2023

کشف ان پر غیب سے جب کچھ فسانے ہو گئے

 کشف ان پر غیب سے جب کچھ فسانے ہو گئے

غیر کی تضحیک کے ہم بھی نشانے ہو گئے

کالعدم وہ زندگی کے دن سہانے ہو گئے

کیوں نیا ڈھونڈیں نہ وہ جب ہم پرانے ہو گئے

گھٹ گئی اوقات اپنی دوست جب آئے نئے

پہلے ان کے یار تھے ہم اب فلانے ہو گئے

آرزو کی ہمدمی میں موت جب آئی نظر

ہوش کے معدوم تب اپنے ٹھکانے ہو گئے

کر دکھایا کام اپنا گرمئ حالات نے

منجمد خوابوں کے اپنے تانے بانے ہو گئے

عشق کی خانہ خرابی کا ہے قصہ مختصر

بات کچھ منہ سے نہ نکلی تھی فسانے ہو گئے


امین الرحمٰن چغتائی

No comments:

Post a Comment