Wednesday, 7 June 2023

تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے

 تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے

نقش جو دل میں ہے آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے

شوق کا عالم اعجاز عیاں ہوتا ہے

کھنچ کے آتا ہے یہاں حسن جہاں ہوتا ہے

قصۂ درد خموشی سے عیاں ہوتا ہے

طور اظہار نظر طرز بیاں ہوتا ہے

رات خاموش ہے ایسے میں ستارو سن لو

دل مضطر مِرا مائل بہ فغاں ہوتا ہے

میری ناکام محبت نے بڑا کام کیا

مدعا عالم حسرت میں جواں ہوتا ہے

خرمن زیست میں شعلے نہ بھڑک اٹھے ہوں

دامن دل کے قریب آج دھواں ہوتا ہے 

ذکر خود چھیڑ کے رویا کیا پہروں اختر

نام آتے ہی تِرا اشک رواں ہوتا ہے


اختر اورینوی

No comments:

Post a Comment