Wednesday, 7 June 2023

دل سے مرے تنہائی کی شدت نہیں جاتی

 دل سے مِرے تنہائی کی شدت نہیں جاتی

اب تُو بھی چلا آئے تو وحشت نہیں جاتی

اس دور کی تعلیم کا معیار عجب ہے

تعلیم تو آتی ہے، جہالت نہیں جاتی

کیا سوچ کے اُمیدِ وفا باندھی تھی تم سے

اک عمر ہوئی دل کی ندامت نہیں جاتی

مُفلس بھی تو خُوددار ہوا کرتے ہیں لوگو

غُربت میں بھی انساں کی شرافت نہیں جاتی

لے جاتی ہیں اب تک بھی مِری نیند چُرا کر

اب تک بھی ان آنکھوں کی شرارت نہیں جاتی

دے دیتا ہے اللہ مجھے حسبِ ضرورت

اب لے کے کسی در پہ ضرورت نہیں جاتی

سو بار تِری جان پہ بن آئی ہے فرحت

پھر بھی تِری حق گوئی کی عادت نہیں جاتی


خلیل فرحت کارنجوی

No comments:

Post a Comment