محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے
بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے
تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے
محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے
بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے
تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے
طوفاں نظر میں ہے نہ کنارا نظر میں ہے
اک عزم معتبر کا سہارا نظر میں ہے
وہ دن گئے کہ تیرگیٔ شب کا تھا ملال
اب جلوۂ سحر کا نظارا نظر میں ہے
حسن نمود صبح کا اللہ رے کمال
بہتا ہوا وہ نور کا دھارا نظر میں ہے
عشق کو بار زندگی نہ کہو
بات اتنی بھی بے تکی نہ کہو
دل کو جس میں ہو فکر سود و زیاں
اس تجارت کو عاشقی نہ کہو
کچھ تو مرنے کا حوصلہ دکھلاؤ
صرف جینے کو زندگی نہ کہو
زیست میں رنگ بھر گئی آخر
وہ نظر کام کر گئی آخر
جذب وحشت کی کارسازی سے
دل کی قسمت سنور گئی آخر
چیر کر پردۂ مہ و انجم
آپ ہی پر نظر گئی آخر