Showing posts with label غضنفر ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label غضنفر ہاشمی. Show all posts

Monday, 23 November 2020

گزر کے دیکھ لیا ہے حد ملال سے بھی

 گزر کے دیکھ لیا ہے حد ملال سے بھی

کہ جی رہے ہیں بچھڑ کر ترے خیال سے بھی

زمانے تو نے یہ کیسا مجھے تراش دیا

مرا وجود تو باہر تھا ہر مثال سے بھی

میں بے نیاز ہوں خود عکس شیشۂ دل سے

کہ ٹوٹ جاتا ہے اکثر یہ دیکھ بھال سے بھی

Sunday, 22 November 2020

سکوت شب سے کلام کرنے چلا گیا تھا

 سکوتِ شب سے کلام کرنے چلا گیا تھا

میں قصۂ درد عام کرنے چلا گیا تھا

جہاں پہ اک عمر اور کچھ خواب گِر گئے تھے

وہاں میں کچھ دن قیام کرنے چلا گیا تھا

یہ دل بہلتا نہیں تھا موجودگاں میں رہ کر

سو رفتگاں کو سلام کرنے چلا گیا تھا

Saturday, 21 November 2020

سخن کا لہجہ گمان خانے میں رہ گیا ہے

 سخن کا لہجہ گمان خانے میں رہ گیا ہے 

مرا زمانہ کسی زمانے میں رہ گیا ہے 

جو تجھ کو جانا ہے اس اندھیرے میں ہی چلا جا 

بس ایک لمحہ دِیا جلانے میں رہ گیا ہے 

ابھی تہی دست مجھ کو مت جان اے زمانے 

کہ ایک آنسو مرے خزانے میں رہ گیا ہے 

Friday, 20 November 2020

کچھ اس لیے بھی تہ آسمان مارا گیا

 کچھ اس لیے بھی تہِ آسمان مارا گیا

میں اپنے وقت سے پہلے یہاں اتارا گیا

یہ کیسے موڑ پہ لے آیا عمر کا دریا

کہ پہلے ناؤ شکستہ تھی اب کنارا گیا

گزر رہا تھا میں جب آسماں بناتے ہوئے

کہیں سے چاند کہیں سے مرا ستارا گیا

غبار دشت فنا میں ٹھہر گئے مرے لوگ

 غبارِ دشتِ فنا میں ٹھہر گئے مرے لوگ

میں دیکھتا ہی رہا اور بکھر گئے مرے لوگ

خوش آ رہی ہے بہت کُوئے رفتگاں کی سیر

کہ رہ گیا ہوں اکیلا، گزر گئے مرے لوگ

نکل کے دیکھ ذرا قصرِ آسمانی سے

ترے جہان میں کتنے ہی مر گئے مرے لوگ

Thursday, 19 November 2020

جواز قصۂ وحشت بنانا پڑتا ہے

 جواز قصۂ وحشت بنانا پڑتا ہے

شبوں کا قرض ہے آخر چکانا پڑتا ہے

یہ دل تو روز پہنچ جائے تیرے پاس یونہی

مگر یہ راہ میں جو اک زمانہ پڑتا ہے

یہ کیا ضرور ہمیشہ کمان ہاتھ میں ہو

کبھی تو خود بھی نشانے پر آنا پڑتا ہے

خط وجود سے باہر کبھی نکال مجھے

 خطِ وجود سے باہر کبھی نکال مجھے

جو میرا اصل جہاں ہے وہاں اچھال مجھے

کشید کر مری سانسوں سے زندگی خود کو

پھر اپنے ہاتھ سے لکھ اپنے خدوخال مجھے

کوئی خیال سا رہتا ہے ہم سفر دل کا

سو اس خیال سے کر دے کبھی نہال مجھے

Wednesday, 18 November 2020

کسی صورت کوئی رستہ نکلنے بھی دیا جائے

 کسی صورت کوئی رستہ نکلنے بھی دیا جائے

گھٹن کو اور اک چہرہ بدلنے بھی دیا جائے

کہیں تنہا میں ساری روشنی لے کر نہ مرجاؤں

مرے اندر سے سورج کو نکلنے بھی دیا جائے

پرندے، خواہشیں، خوشبو، محبت اور تنہائی

کسی کے ساتھ تھوڑی دیر چلنے بھی دیا جائے

اک عہد زیاں خواب سرا ہو گیا مجھ میں

 اک عہدِ زیاں، خواب سرا ہو گیا مجھ میں

اک اور برس آ کے فنا ہو گیا مجھ میں

یہ کیا کہ میں اڑتا ہی چلا جاتا ہوں اوپر

کیسا یہ دریچہ کوئی وا ہو گیا مجھ میں

پہلے بھی بہت شور سا تھا خون میں لیکن

اس بار تو اک حشر بپا ہو گیا مجھ میں

بے چہرگی عمر خجالت بھی بہت ہے

 بے چہرگیٔ عمر خجالت بھی بہت ہے

اس دشت میں گرداب کی صورت بھی بہت ہے

آنکھیں جو لیے پھرتا ہوں اے خوابِ مسلسل

میرے لیے یہ کارِ اذیت بھی بہت ہے

تم زادِ سفر اتنا اٹھاؤ گے کہاں تک؟

اسباب میں اک رنجِ مسافت بھی بہت ہے