گزر کے دیکھ لیا ہے حد ملال سے بھی
کہ جی رہے ہیں بچھڑ کر ترے خیال سے بھی
زمانے تو نے یہ کیسا مجھے تراش دیا
مرا وجود تو باہر تھا ہر مثال سے بھی
میں بے نیاز ہوں خود عکس شیشۂ دل سے
کہ ٹوٹ جاتا ہے اکثر یہ دیکھ بھال سے بھی
گزر کے دیکھ لیا ہے حد ملال سے بھی
کہ جی رہے ہیں بچھڑ کر ترے خیال سے بھی
زمانے تو نے یہ کیسا مجھے تراش دیا
مرا وجود تو باہر تھا ہر مثال سے بھی
میں بے نیاز ہوں خود عکس شیشۂ دل سے
کہ ٹوٹ جاتا ہے اکثر یہ دیکھ بھال سے بھی
سکوتِ شب سے کلام کرنے چلا گیا تھا
میں قصۂ درد عام کرنے چلا گیا تھا
جہاں پہ اک عمر اور کچھ خواب گِر گئے تھے
وہاں میں کچھ دن قیام کرنے چلا گیا تھا
یہ دل بہلتا نہیں تھا موجودگاں میں رہ کر
سو رفتگاں کو سلام کرنے چلا گیا تھا
سخن کا لہجہ گمان خانے میں رہ گیا ہے
مرا زمانہ کسی زمانے میں رہ گیا ہے
جو تجھ کو جانا ہے اس اندھیرے میں ہی چلا جا
بس ایک لمحہ دِیا جلانے میں رہ گیا ہے
ابھی تہی دست مجھ کو مت جان اے زمانے
کہ ایک آنسو مرے خزانے میں رہ گیا ہے
کچھ اس لیے بھی تہِ آسمان مارا گیا
میں اپنے وقت سے پہلے یہاں اتارا گیا
یہ کیسے موڑ پہ لے آیا عمر کا دریا
کہ پہلے ناؤ شکستہ تھی اب کنارا گیا
گزر رہا تھا میں جب آسماں بناتے ہوئے
کہیں سے چاند کہیں سے مرا ستارا گیا
غبارِ دشتِ فنا میں ٹھہر گئے مرے لوگ
میں دیکھتا ہی رہا اور بکھر گئے مرے لوگ
خوش آ رہی ہے بہت کُوئے رفتگاں کی سیر
کہ رہ گیا ہوں اکیلا، گزر گئے مرے لوگ
نکل کے دیکھ ذرا قصرِ آسمانی سے
ترے جہان میں کتنے ہی مر گئے مرے لوگ
جواز قصۂ وحشت بنانا پڑتا ہے
شبوں کا قرض ہے آخر چکانا پڑتا ہے
یہ دل تو روز پہنچ جائے تیرے پاس یونہی
مگر یہ راہ میں جو اک زمانہ پڑتا ہے
یہ کیا ضرور ہمیشہ کمان ہاتھ میں ہو
کبھی تو خود بھی نشانے پر آنا پڑتا ہے
خطِ وجود سے باہر کبھی نکال مجھے
جو میرا اصل جہاں ہے وہاں اچھال مجھے
کشید کر مری سانسوں سے زندگی خود کو
پھر اپنے ہاتھ سے لکھ اپنے خدوخال مجھے
کوئی خیال سا رہتا ہے ہم سفر دل کا
سو اس خیال سے کر دے کبھی نہال مجھے
کسی صورت کوئی رستہ نکلنے بھی دیا جائے
گھٹن کو اور اک چہرہ بدلنے بھی دیا جائے
کہیں تنہا میں ساری روشنی لے کر نہ مرجاؤں
مرے اندر سے سورج کو نکلنے بھی دیا جائے
پرندے، خواہشیں، خوشبو، محبت اور تنہائی
کسی کے ساتھ تھوڑی دیر چلنے بھی دیا جائے
اک عہدِ زیاں، خواب سرا ہو گیا مجھ میں
اک اور برس آ کے فنا ہو گیا مجھ میں
یہ کیا کہ میں اڑتا ہی چلا جاتا ہوں اوپر
کیسا یہ دریچہ کوئی وا ہو گیا مجھ میں
پہلے بھی بہت شور سا تھا خون میں لیکن
اس بار تو اک حشر بپا ہو گیا مجھ میں
بے چہرگیٔ عمر خجالت بھی بہت ہے
اس دشت میں گرداب کی صورت بھی بہت ہے
آنکھیں جو لیے پھرتا ہوں اے خوابِ مسلسل
میرے لیے یہ کارِ اذیت بھی بہت ہے
تم زادِ سفر اتنا اٹھاؤ گے کہاں تک؟
اسباب میں اک رنجِ مسافت بھی بہت ہے