Saturday, 21 November 2020

سخن کا لہجہ گمان خانے میں رہ گیا ہے

 سخن کا لہجہ گمان خانے میں رہ گیا ہے 

مرا زمانہ کسی زمانے میں رہ گیا ہے 

جو تجھ کو جانا ہے اس اندھیرے میں ہی چلا جا 

بس ایک لمحہ دِیا جلانے میں رہ گیا ہے 

ابھی تہی دست مجھ کو مت جان اے زمانے 

کہ ایک آنسو مرے خزانے میں رہ گیا ہے 

کبھی جو حکمِ سفر ہوا تو کُھلا یہ مجھ پر 

جو پر سلامت تھا، آشیانے میں رہ گیا ہے 

عجب طرح کا ادھوراپن ہے مرے بیاں میں 

سو میرا قصہ کہیں سنانے میں رہ گیا ہے 

بہت ضروری تھا خود سے ملنا مگر غضنفر

یہ کارِ دنیا کے تانے بانے میں رہ گیا ہے 


غضنفر ہاشمی

No comments:

Post a Comment