Showing posts with label نرگس جمال سحر. Show all posts
Showing posts with label نرگس جمال سحر. Show all posts

Friday, 8 March 2024

کس نے کیا پا لیا محبت میں

 کس نے کیا پا لیا محبت میں

دھوکہ خود کھا لیا محبت میں

جب بھی دیکھی ہے بڑھتے بے چینی

دل کو سمجھا لیا محبت میں

تجھ سے آگے نظر نہ کچھ آئے

حد تجھے بنا لیا، محبت میں

Monday, 19 February 2024

زندگی موت کی تماشائی ہے

 زندگی موت کی تماشائی ہے

آج پھر اس کو ملنے آئی ہے

سر سراتی ہوئی یہ تنہائی

در و دیوار پہ لہرائی ہے

ڈر مِرے دِل میں چُھپ کے رہتا ہے

جیسے برسوں کی شناسائی ہے

Monday, 1 January 2024

اپنی خوشیاں تو خواب جیسی ہیں

 اپنی خوشیاں تو خواب جیسی ہیں

چار دن کے شباب جیسی ہیں

لبِ خاموش سے کچھ کہہ نہ سکیں

کرنیں وہ ماہتاب جیسی ہیں

جُھوٹے سپنے دکھا نہیں ان کو

جن کی آنکھیں کتاب جیسی ہیں

Sunday, 31 December 2023

اک روز کہا لیلیٰ نے رستہ میرا تو چھوڑ دے

 زعفرانی غزل


اک روز کہا لیلیٰ نے رستہ میرا تُو چھوڑ دے

اے بے عمل عاشق! پیچھا میرا تو چھوڑ دے

کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو

گا گا کے میں ہاری سمجھ آتی نہیں زمانے کو

کھاتا پھرتا ہے تُو پتھر چوٹ لگتی ہے مُجھے

حال پہ میرے آتا نہیں ترس تُجھے

Sunday, 6 November 2022

جاتے لمحے کو بھی بے کار نہیں کرنا ہے

جاتے لمحے کو بھی بے کار نہیں کرنا ہے

زِیست کو اور بھی دُشوار نہیں کرنا ہے

دِل اگر دے ہی دیا ہم نے بِنا شرطوں کے

کچھ بھی ہو جائے اُسے بار نہیں کرنا ہے

شکوہ اپنوں سے ہُوا کرتا غیروں سے نہیں

بے وفا کبھی اظہار نہیں کرنا ہے