کس نے کیا پا لیا محبت میں
دھوکہ خود کھا لیا محبت میں
جب بھی دیکھی ہے بڑھتے بے چینی
دل کو سمجھا لیا محبت میں
تجھ سے آگے نظر نہ کچھ آئے
حد تجھے بنا لیا، محبت میں
کس نے کیا پا لیا محبت میں
دھوکہ خود کھا لیا محبت میں
جب بھی دیکھی ہے بڑھتے بے چینی
دل کو سمجھا لیا محبت میں
تجھ سے آگے نظر نہ کچھ آئے
حد تجھے بنا لیا، محبت میں
زندگی موت کی تماشائی ہے
آج پھر اس کو ملنے آئی ہے
سر سراتی ہوئی یہ تنہائی
در و دیوار پہ لہرائی ہے
ڈر مِرے دِل میں چُھپ کے رہتا ہے
جیسے برسوں کی شناسائی ہے
اپنی خوشیاں تو خواب جیسی ہیں
چار دن کے شباب جیسی ہیں
لبِ خاموش سے کچھ کہہ نہ سکیں
کرنیں وہ ماہتاب جیسی ہیں
جُھوٹے سپنے دکھا نہیں ان کو
جن کی آنکھیں کتاب جیسی ہیں
زعفرانی غزل
اک روز کہا لیلیٰ نے رستہ میرا تُو چھوڑ دے
اے بے عمل عاشق! پیچھا میرا تو چھوڑ دے
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو
گا گا کے میں ہاری سمجھ آتی نہیں زمانے کو
کھاتا پھرتا ہے تُو پتھر چوٹ لگتی ہے مُجھے
حال پہ میرے آتا نہیں ترس تُجھے
جاتے لمحے کو بھی بے کار نہیں کرنا ہے
زِیست کو اور بھی دُشوار نہیں کرنا ہے
دِل اگر دے ہی دیا ہم نے بِنا شرطوں کے
کچھ بھی ہو جائے اُسے بار نہیں کرنا ہے
شکوہ اپنوں سے ہُوا کرتا غیروں سے نہیں
بے وفا کبھی اظہار نہیں کرنا ہے