اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں
ٹوٹا تو آسمان کی چیخیں نکل گئیں
مدت کے بعد آئینہ دیکھا، تو دفعتاً
منہ پر جمی تھکان کی چیخیں نکل گئیں
رازوں سے ایک راز بتایا تھا اس کو بس
ایسا کہ رازدان کی چیخیں نکل گئیں
اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں
ٹوٹا تو آسمان کی چیخیں نکل گئیں
مدت کے بعد آئینہ دیکھا، تو دفعتاً
منہ پر جمی تھکان کی چیخیں نکل گئیں
رازوں سے ایک راز بتایا تھا اس کو بس
ایسا کہ رازدان کی چیخیں نکل گئیں
کون کہتا ہے فقط زر سے اُلٹ سکتی ہے
تیری دستار مِرے ڈر سے الٹ سکتی ہے
موسیٰ فرعون کے گھر رہ کے پلے ہیں جیسے
تیری فرعونی، تِرے گھر سے الٹ سکتی ہے
ساری دنیا بھی جو بن جائے یزیدی لشکر
یہ سِپہ صرف بہتّر سے الٹ سکتی ہے
بار ہا تجھ کو منانے سے رہا، جا چلی جا
دل تِرے ناز اٹھانے سے رہا، جا چلی جا
اپنے ہی شوق سے آتی ہے تو آ، بسم اللہ
میں تو اب لوٹ کے آنے سے رہا، جا چلی جا
اتنا بدنام ہوا تیرے لیے دنیا میں
اب تو میں نام کمانے سے رہا، جا چلی جا
تِرے اقرار کے دھوکے میں آ کر
لُٹے ہیں پیار کے دھوکے میں آ کر
مقیّد ہو گیا ہوں اپنے گھر میں
در و دیوار کے دھوکے میں آ کر
کہیں میں چاند پر نہ ہونٹ رکھ دوں
تِرے رخسار کے دھوکے میں آ کر
میں اکیلے میں کھینچ لایا ہوں
خواب کوچے میں کھینچ لایا ہوں
ایسا پگلا ہوں دل کی خواہش پہ
چاند کمرے میں کھینچ لایا ہوں
تیری یادوں کو باندھ کر تسبیح
دل کے حجرے میں کھینچ لایا ہوں
سر تو جلتا ہے تِرے ہجر کے باعث لیکن
وہم کھل جائے تو قدموں سے دھواں نکلے گا
آگ لگ جائے گی تقدیر کی ہر تختی کو
اور پھر بخت کے دھاگوں سے دھواں نکلے گا
تو جو اک بار شرابوں پہ ذرا ہونٹ رکھے
پھر تِرے بعد شرابوں سے دھواں نکلے گا
کس نے چھیڑا ہے راگ پانی میں
رقص کرتی ہے آگ پانی میں
اس سہاگن کی بے بسی دیکھو
جس کا ڈوبا سہاگ پانی میں
آئینے کو ہی کر دیا دھندلا
جیسے ہو کوئی جھاگ پانی میں