Showing posts with label عرباض عرضی. Show all posts
Showing posts with label عرباض عرضی. Show all posts

Saturday, 18 September 2021

اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں

 اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں

ٹوٹا تو آسمان کی چیخیں نکل گئیں

مدت کے بعد آئینہ دیکھا، تو دفعتاً

منہ پر جمی تھکان کی چیخیں نکل گئیں

رازوں سے ایک راز بتایا تھا اس کو بس

ایسا کہ رازدان کی چیخیں نکل گئیں

Tuesday, 3 August 2021

کون کہتا ہے فقط زر سے الٹ سکتی ہے

 کون کہتا ہے فقط زر سے اُلٹ سکتی ہے

تیری دستار مِرے ڈر سے الٹ سکتی ہے

موسیٰ فرعون کے گھر رہ کے پلے ہیں جیسے

تیری فرعونی، تِرے گھر سے الٹ سکتی ہے

ساری دنیا بھی جو بن جائے یزیدی لشکر 

یہ سِپہ صرف بہتّر سے الٹ سکتی ہے

Saturday, 3 July 2021

بار ہا تجھ کو منانے سے رہا جا چلی جا

 بار ہا تجھ کو منانے سے رہا، جا چلی جا 

دل تِرے ناز اٹھانے سے رہا، جا چلی جا 

اپنے ہی شوق سے آتی ہے تو آ، بسم اللہ 

میں تو اب لوٹ کے آنے سے رہا، جا چلی جا

اتنا بدنام ہوا تیرے لیے دنیا میں

اب تو میں نام کمانے سے رہا، جا چلی جا

ترے اقرار کے دھوکے میں آ کر

تِرے اقرار کے دھوکے میں آ کر

لُٹے ہیں پیار کے دھوکے میں آ کر

مقیّد ہو گیا ہوں اپنے گھر میں

در و دیوار کے دھوکے میں آ کر

کہیں میں چاند پر نہ ہونٹ رکھ دوں

تِرے رخسار کے دھوکے میں آ کر

Friday, 2 July 2021

میں اکیلے میں کھینچ لایا ہوں

 میں اکیلے میں کھینچ لایا ہوں

خواب کوچے میں کھینچ لایا ہوں

ایسا پگلا ہوں دل کی خواہش پہ

چاند کمرے میں کھینچ لایا ہوں

تیری یادوں کو باندھ کر تسبیح

دل کے حجرے میں کھینچ لایا ہوں

نیند آئے گی تو خوابوں سے دھواں نکلے گا

 سر تو جلتا ہے تِرے ہجر کے باعث لیکن

وہم کھل جائے تو قدموں سے دھواں نکلے گا

آگ لگ جائے گی تقدیر کی ہر تختی کو

اور پھر بخت کے دھاگوں سے دھواں نکلے گا

تو جو اک بار شرابوں پہ ذرا ہونٹ رکھے

پھر تِرے بعد شرابوں سے دھواں نکلے گا

کس نے چھیڑا ہے راگ پانی میں

 کس نے چھیڑا ہے راگ پانی میں

رقص کرتی ہے آگ پانی میں

اس سہاگن کی بے بسی دیکھو

جس کا ڈوبا سہاگ پانی میں

آئینے کو ہی کر دیا دھندلا

جیسے ہو کوئی جھاگ پانی میں