Saturday, 18 September 2021

اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں

 اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں

ٹوٹا تو آسمان کی چیخیں نکل گئیں

مدت کے بعد آئینہ دیکھا، تو دفعتاً

منہ پر جمی تھکان کی چیخیں نکل گئیں

رازوں سے ایک راز بتایا تھا اس کو بس

ایسا کہ رازدان کی چیخیں نکل گئیں

پہلے بڑوں نے جبر میں اک فیصلہ کیا

پھر پورے خاندان کی چیخیں نکل گئیں

اتنی جوان موت تھی، اتنی جوان موت

اتنی کہ ہر جوان کی چیخیں نکل گئیں

اک چھت گری تھی ننھے سے بچوں پہ اس طرح

بستی کے ہر مکان کی چیخیں نکل گئیں

بس تیر کا اترنا تھا اصغرؑ کے حلق میں

پھر یوں ہوا کمان کی چیخیں نکل گئیں


عرباض عرضی

No comments:

Post a Comment