ہم بھی کچھ دن ہی اداسی کا بھرم رکھیں گے
اور کچھ کھیل دکھائیں گے، چلے جائیں گے
مجھ کو معلوم ہے مرنے کی سہولت یارو
لوگ کاندھوں پہ اٹھائیں گے، چلے جائیں گے
میرے احباب جو کرتے ہیں محبت مجھ سے
وہ بھی آنسو ہی بہائیں گے، چلے جائیں گے
ہم بھی کچھ دن ہی اداسی کا بھرم رکھیں گے
اور کچھ کھیل دکھائیں گے، چلے جائیں گے
مجھ کو معلوم ہے مرنے کی سہولت یارو
لوگ کاندھوں پہ اٹھائیں گے، چلے جائیں گے
میرے احباب جو کرتے ہیں محبت مجھ سے
وہ بھی آنسو ہی بہائیں گے، چلے جائیں گے
سخن جو مِرا اب سہارہ ہوا ہے
سخن کا عجب اک بسیرا ہے مجھ میں
کوئی بات کہدوں نظم بن کے نکلے
عجب طور سے دُھن غزالوں کی مجھ میں
عجب اک محبت کی دُھن لے کے نکلے
عجب طور سے اک عجب طرز لے کر
محبت کرنے والوں کو کنارے درد دیتے ہیں
خسارے ہو گئے اتنے سہارے درد دیتے ہیں
نہ کرنا اب کسی بھی آنکھ کو رسوا کبھی یارا
محبت ہو اگر لحظہ شمارے درد دیتے ہیں
قناعت زندگی کو آ گئی ہو تو یوں ہوتا ہے
ندی کلیاں پہاڑی سب نظارے درد دیتے ہیں
یاد ہے، دبدبہ اُداسی ہے
اے مِرے ہمنوا! اداسی ہے
بس یہی مسئلہ اداسی ہے
تُو نہیں جانتا اداسی ہے
باخدا کچھ خبر بھی ہے تجھ کو
ہر بشر ڈھونڈتا اداسی ہے
احساس
احساس کے گہرے بندھن میں
ناجانے احساس کہاں پر ہوتا ہے
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
ہر جا تلخ حقیقی باتیں ہیں
کب کون کسی سے آشنا ہوتا ہے
سب آوارہ پنچھی دیوانے ہیں
اے مِرے خیال
اے مِرے خیال کہاں سو رہے ہو تم
تمہیں خبر بھی ہے دنیا کی کچھ
تمہیں علم بھی زندگی کا کچھ
تم کہاں چلے گئے ہو
کہاں کھو گئے ہو
کہاں سو گئے ہو
ستم تو یہ ہے ستمگر کی آنکھ کا دکھ ہوں
ستمگروں سے مراسم ہزار رکھتا ہوں
سرور چیز محبت کا بدل ہے تو نہیں
میں آپ اپنے تئیں انحصار رکھتا ہوں
کوئی بھی بات مِرے ذہن میں نہیں رہتی
میں اب خزاؤں میں اکثر بہار رکھتا ہوں
میں اب تمہاری باتوں میں آنے والا نہیں
سب کے سامنے اپنا تماشا بنانے والا نہیں
اب اگر کوئی پوچھے گا بھی تو میں اُسے
تمہارے گھر کا پتہ بتانے والا نہیں
بے وجہ رُوٹھے ہو، مان جاؤ تو اچھا ہے
میں تو اب ہر گز تمہیں منانے والا نہیں
مکالماتی غزل
وہ کہتی ہے
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میرے ہونے نا ہونے سے
میں کہتا ہوں؛ ہاں آخر میں تیرا لگتا ہی کیا ہوں
وہ کہتی ہے؛ تمہارے جاگنے کا راز کیا ہے
میں کہتا ہوں؛ میری نیندیں لے اڑا کوئی
وہ کہتی ہے؛ ہم دونوں کے درمیاں کون ہے تیجھا
میں کہتا ہوں؛ ہمارے درمیاں تیجھی محبت ہے