Showing posts with label معاذ فرہاد. Show all posts
Showing posts with label معاذ فرہاد. Show all posts

Thursday, 25 August 2022

ہم بھی کچھ دن ہی اداسی کا بھرم رکھیں گے

 ہم بھی کچھ دن ہی اداسی کا بھرم رکھیں گے

اور کچھ کھیل دکھائیں گے، چلے جائیں گے

مجھ کو معلوم ہے مرنے کی سہولت یارو

لوگ کاندھوں پہ اٹھائیں گے، چلے جائیں گے

میرے احباب جو کرتے ہیں محبت مجھ سے

وہ بھی آنسو ہی بہائیں گے، چلے جائیں گے

Tuesday, 15 March 2022

سخن جو مرا اب سہارہ ہوا ہے

 سخن جو مِرا اب سہارہ ہوا ہے


سخن کا عجب اک بسیرا ہے مجھ میں 

کوئی بات کہدوں نظم بن کے نکلے

عجب طور سے دُھن غزالوں کی مجھ میں 

عجب اک محبت کی دُھن لے کے نکلے

عجب طور سے اک عجب طرز لے کر 

Thursday, 17 February 2022

محبت کرنے والوں کو کنارے درد دیتے ہیں

 محبت کرنے والوں کو کنارے درد دیتے ہیں

خسارے ہو گئے اتنے سہارے درد دیتے ہیں

نہ کرنا اب کسی بھی آنکھ کو رسوا کبھی یارا

محبت ہو اگر لحظہ شمارے درد دیتے ہیں

قناعت زندگی کو آ گئی ہو تو یوں ہوتا ہے

ندی کلیاں پہاڑی سب نظارے درد دیتے ہیں

Friday, 17 September 2021

یاد ہے دبدبہ اداسی ہے

 یاد ہے، دبدبہ اُداسی ہے

اے مِرے ہمنوا! اداسی ہے

بس یہی مسئلہ اداسی ہے

تُو نہیں جانتا اداسی ہے

باخدا کچھ خبر بھی ہے تجھ کو

ہر بشر ڈھونڈتا اداسی ہے

Monday, 12 July 2021

احساس کے گہرے بندھن میں

احساس 

احساس کے گہرے بندھن میں

ناجانے احساس کہاں پر ہوتا ہے

سب دل رکھنے کی باتیں ہیں

ہر جا تلخ حقیقی باتیں ہیں

کب کون کسی سے آشنا ہوتا ہے

سب آوارہ پنچھی دیوانے ہیں

اے مرے خیال کہاں سو رہے ہو تم

 اے مِرے خیال


اے مِرے خیال کہاں سو رہے ہو تم

تمہیں خبر بھی ہے دنیا کی کچھ

تمہیں علم بھی زندگی کا کچھ

تم کہاں چلے گئے ہو

کہاں کھو گئے ہو

کہاں سو گئے ہو

Saturday, 10 July 2021

ستم تو یہ ہے ستمگر کی آنکھ کا دکھ ہوں

ستم تو یہ ہے ستمگر کی آنکھ کا دکھ ہوں

ستمگروں سے مراسم ہزار رکھتا ہوں 

سرور چیز محبت کا بدل ہے تو نہیں 

میں آپ اپنے تئیں انحصار رکھتا ہوں 

 کوئی بھی بات مِرے ذہن میں نہیں رہتی

میں اب خزاؤں میں اکثر بہار رکھتا ہوں

میں اب تمہاری باتوں میں آنے والا نہیں

 میں اب تمہاری باتوں میں آنے والا نہیں

سب کے سامنے اپنا تماشا بنانے والا نہیں

اب اگر کوئی پوچھے گا بھی تو میں اُسے

تمہارے گھر کا پتہ بتانے والا نہیں

بے وجہ رُوٹھے ہو، مان جاؤ تو اچھا ہے

میں تو اب ہر گز تمہیں منانے والا نہیں

Friday, 9 July 2021

وہ کہتی ہے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میرے ہونے نا ہونے سے

مکالماتی غزل


وہ کہتی ہے 

تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میرے ہونے نا ہونے سے

میں کہتا ہوں؛ ہاں آخر میں تیرا لگتا ہی کیا ہوں

وہ کہتی ہے؛ تمہارے جاگنے کا راز کیا ہے

میں کہتا ہوں؛ میری نیندیں لے اڑا کوئی

وہ کہتی ہے؛ ہم دونوں کے درمیاں کون ہے تیجھا

میں کہتا ہوں؛ ہمارے درمیاں تیجھی محبت ہے