Monday, 12 July 2021

احساس کے گہرے بندھن میں

احساس 

احساس کے گہرے بندھن میں

ناجانے احساس کہاں پر ہوتا ہے

سب دل رکھنے کی باتیں ہیں

ہر جا تلخ حقیقی باتیں ہیں

کب کون کسی سے آشنا ہوتا ہے

سب آوارہ پنچھی دیوانے ہیں

کب کیسے کہاں کون اکھڑ جائے

کب کسی کی ضمانت کوئی دیتا ہے

ہر اک رکھتا ہے الگ اک مزاج اپنا

کب یہاں پہ دل سے عزت ہوتی ہے

سب باتیں مطلب کی باتیں ہیں

مطلب تک محدود اس دنیا کی

جھوٹی قسمیں باتیں ہیں

یہ سب اک میں نہیں کہتا

ہر زباں پر یہی صدا ہے کہ

اس مطلب کی محدود دنیا کو

مطلبی ہی بس بھاتا ہے

احساس کے گہرے بندھن میں

کب کون کسی کو بھاتا ہے

سب آگ لگانے والے ہیں

سب دل کو جلانے والے ہیں

ہیں کچھ ایسے بھی جو

پریت نبھانے والے ہیں

مگر کب پریت مکمل نبھاتے ہیں

سفر میں منزل سے قبل پہلے ہی

تنہا چھوڑ کے چلے جاتے ہیں

کب اک دُوجے کو بھاتے ہیں

کب اپنے پن کا احساس دلاتے ہیں

اس دنیا کی رنگینی سے

بے ربط کبھی نہ رہنا تم

جب بھی پکارے تجھ کو کوئی

تو دوڑے دوڑے آ جانا تم

شکوہ ہو گر کسی سے تو

کچھ بھی مت اس کو کہنا تم

ہجر نہ راس آئے تم کو جب

ان جلتی بلتی گلیوں میں نہ خاک اڑانا تم

احساس کے گہرے بندھن کو

بس تھامے تھامے رہنا تم

بس تھامے تھامے رہنا تم


معاذ فرہاد

No comments:

Post a Comment