احساس
احساس کے گہرے بندھن میں
ناجانے احساس کہاں پر ہوتا ہے
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
ہر جا تلخ حقیقی باتیں ہیں
کب کون کسی سے آشنا ہوتا ہے
سب آوارہ پنچھی دیوانے ہیں
کب کیسے کہاں کون اکھڑ جائے
کب کسی کی ضمانت کوئی دیتا ہے
ہر اک رکھتا ہے الگ اک مزاج اپنا
کب یہاں پہ دل سے عزت ہوتی ہے
سب باتیں مطلب کی باتیں ہیں
مطلب تک محدود اس دنیا کی
جھوٹی قسمیں باتیں ہیں
یہ سب اک میں نہیں کہتا
ہر زباں پر یہی صدا ہے کہ
اس مطلب کی محدود دنیا کو
مطلبی ہی بس بھاتا ہے
احساس کے گہرے بندھن میں
کب کون کسی کو بھاتا ہے
سب آگ لگانے والے ہیں
سب دل کو جلانے والے ہیں
ہیں کچھ ایسے بھی جو
پریت نبھانے والے ہیں
مگر کب پریت مکمل نبھاتے ہیں
سفر میں منزل سے قبل پہلے ہی
تنہا چھوڑ کے چلے جاتے ہیں
کب اک دُوجے کو بھاتے ہیں
کب اپنے پن کا احساس دلاتے ہیں
اس دنیا کی رنگینی سے
بے ربط کبھی نہ رہنا تم
جب بھی پکارے تجھ کو کوئی
تو دوڑے دوڑے آ جانا تم
شکوہ ہو گر کسی سے تو
کچھ بھی مت اس کو کہنا تم
ہجر نہ راس آئے تم کو جب
ان جلتی بلتی گلیوں میں نہ خاک اڑانا تم
احساس کے گہرے بندھن کو
بس تھامے تھامے رہنا تم
بس تھامے تھامے رہنا تم
معاذ فرہاد
No comments:
Post a Comment