Monday, 12 July 2021

آنسو تو کوئی آنکھ میں لایا نہیں ہوں میں

 آنسو تو کوئی آنکھ میں لایا نہیں ہوں میں

جیسا مگر لگا تمہیں ویسا نہیں ہوں میں

اب مبتلائے عشق زیادہ نہیں ہوں میں

کہتے ہو تم یہی تو پھر اچھا نہیں ہوں میں

خوبی نہ ہو کوئی مگر اتنا تو ہے ضرور

جھوٹی لگے جو بات وہ کہتا نہیں ہوں میں

پانی پہ بنتے عکس کی مانند ہوں، مگر

آنکھوں میں کوئی بھر لے تو مِٹتا نہیں ہوں میں

اس طرح خود کو مجھ پہ نمایاں نہ کیجئے

انسان ہوں حضور! فرشتہ نہیں ہوں میں

رستوں کے خم و پیچ میں ایسا رہا ہوں غرق

اب تک کسی مقام پہ ٹھہرا نہیں ہوں میں

سودا ہے میرے سر میں تو پیروں میں بھی ہے دم

چلتا ہوں ایک بار، تو رُکتا نہیں ہوں میں

مانو مِری بھی بات کہ سب کچھ لُٹا کے بھی

جیتا ہوں اس کے عشق میں ہارا نہیں ہوں میں

سن لو ہلال آج ہی سننا ہے جو غزل

پھر مجھ سے مت یہ کہنا سناتا نہیں ہوں میں


ہلال فرید

No comments:

Post a Comment