آنسو تو کوئی آنکھ میں لایا نہیں ہوں میں
جیسا مگر لگا تمہیں ویسا نہیں ہوں میں
اب مبتلائے عشق زیادہ نہیں ہوں میں
کہتے ہو تم یہی تو پھر اچھا نہیں ہوں میں
خوبی نہ ہو کوئی مگر اتنا تو ہے ضرور
جھوٹی لگے جو بات وہ کہتا نہیں ہوں میں
پانی پہ بنتے عکس کی مانند ہوں، مگر
آنکھوں میں کوئی بھر لے تو مِٹتا نہیں ہوں میں
اس طرح خود کو مجھ پہ نمایاں نہ کیجئے
انسان ہوں حضور! فرشتہ نہیں ہوں میں
رستوں کے خم و پیچ میں ایسا رہا ہوں غرق
اب تک کسی مقام پہ ٹھہرا نہیں ہوں میں
سودا ہے میرے سر میں تو پیروں میں بھی ہے دم
چلتا ہوں ایک بار، تو رُکتا نہیں ہوں میں
مانو مِری بھی بات کہ سب کچھ لُٹا کے بھی
جیتا ہوں اس کے عشق میں ہارا نہیں ہوں میں
سن لو ہلال آج ہی سننا ہے جو غزل
پھر مجھ سے مت یہ کہنا سناتا نہیں ہوں میں
ہلال فرید
No comments:
Post a Comment