تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب
حسین و دل نشیں لگتی ہے اب تو زندگی صاحب
ملن کی ساعتوں میں جاں فزا خوشبو انوکھی ہے
ہمہ دم رقص کرتی ہے عجب اک بے خودی صاحب
ترو تازہ ہوئی مٹی مِری بس ایک لمحے میں
تمہارے ایک حرف خوشنما پر وار دوں غزلیں
تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب
حسین و دل نشیں لگتی ہے اب تو زندگی صاحب
ملن کی ساعتوں میں جاں فزا خوشبو انوکھی ہے
ہمہ دم رقص کرتی ہے عجب اک بے خودی صاحب
ترو تازہ ہوئی مٹی مِری بس ایک لمحے میں
تمہارے ایک حرف خوشنما پر وار دوں غزلیں
دھوپ کے آئینے کو یکسر نہیں جھاڑوں گی میں
گرد دن کی دامنِ شب پر نہیں جھاڑوں گی میں
ہو گیا ہے اُنس اب مکڑی کے جالوں سے مجھے
یعنی اب کے عید پر بھی گھر نہیں جھاڑوں گی میں
دھوپ میں بیٹھوں گی تو سایہ نہیں مانگوں گی اور
بھیگ کر بارش میں اپنے پر نہیں جھاڑوں گی میں
اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل
بچاؤں میں کیسے یہ مرتا ہوا دل
میں اس کی محبت میں لبریز دریا
وہ مجھ میں اتر کے ابھرتا ہوا دل
ستارے خلا سے ابھی توڑ لاؤں
مگر آسماں سے یہ ڈرتا ہوا دل
مِرے اشک جب جب آواز بن کر
تمہاری سماعت سے ٹکرائیں
تو تم انہیں تھام لینا
بکھرنے نہ دینا
بکھر کے اگر یہ کہیں گم ہوئے تو
سمندر ہمیشہ ہی تنہا رہے گا
انداز
سنا تم نے
کسی مخمل کی ڈبیا میں
حسیں ہیرے کی انگوٹھی
نجانے کتنے سالوں سے
سلیٹی رنگ کی ساڑھی میں
میں کسی کی رات کا تنہا چراغ
اتنا سننا تھا کہ پھر مہکا چراغ
طاق جاں کی گُل ہوئی افسردگی
آس نے اُمید کا رکھا چراغ
اندرونِ ذات تک کھلتا ہوا
جسم کے جنگل میں اک اُگتا چراغ
سفر گماں ہے، راستہ خیال ہے
چلو گے میرے ساتھ کیا خیال ہے
نظر کو عکسِ جان کی للک ہے اور
غضب یہ ہے کہ آئینہ خیال ہے
کسی نظر کی روشنی سے منسلک
یہ طاق میں دھرا دِیا خیال ہے
بجھنے لگی ہے شام ستارہ اداس ہے
اک دوست ہے جہاں میں ہمارا، اداس ہے
افسردگی میں ارض و سماں ڈھل گئے تمام
خاموش ہے نگاہ، نظارہ اداس ہے
دو نیم ہو چکا ہے کوئی آئینہ کہیں
عکسِ چراغِ ذات کا پارہ اداس ہے