Showing posts with label شمائلہ بہزاد. Show all posts
Showing posts with label شمائلہ بہزاد. Show all posts

Wednesday, 5 April 2023

تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب

تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب

حسین و دل نشیں لگتی ہے اب تو زندگی صاحب

ملن کی ساعتوں میں جاں فزا خوشبو انوکھی ہے

ہمہ دم رقص کرتی ہے عجب اک بے خودی صاحب

ترو تازہ ہوئی مٹی مِری بس ایک لمحے میں

تمہارے ایک حرف خوشنما پر وار دوں غزلیں

Sunday, 4 July 2021

دھوپ کے آئینے کو یکسر نہیں جھاڑوں گی میں

 دھوپ کے آئینے کو یکسر نہیں جھاڑوں گی میں

گرد دن کی دامنِ شب پر نہیں جھاڑوں گی میں

ہو گیا ہے اُنس اب مکڑی کے جالوں سے مجھے

یعنی اب کے عید پر بھی گھر نہیں جھاڑوں گی میں

دھوپ میں بیٹھوں گی تو سایہ نہیں مانگوں گی اور

بھیگ کر بارش میں اپنے پر نہیں جھاڑوں گی میں

Monday, 7 June 2021

اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل

 اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل

بچاؤں میں کیسے یہ مرتا ہوا دل

میں اس کی محبت میں لبریز دریا

وہ مجھ میں اتر کے ابھرتا ہوا دل

ستارے خلا سے ابھی توڑ لاؤں

مگر آسماں سے یہ ڈرتا ہوا دل

Sunday, 6 June 2021

مرے اشک جب جب آواز بن کر تمہاری سماعت سے ٹکرائیں

 مِرے اشک جب جب آواز بن کر 

تمہاری سماعت سے ٹکرائیں 

تو تم انہیں تھام لینا

بکھرنے نہ دینا

بکھر کے اگر یہ کہیں گم ہوئے تو

سمندر ہمیشہ ہی تنہا رہے گا

Saturday, 5 June 2021

سنا تم نے

 انداز


سنا تم نے

کسی مخمل کی ڈبیا میں

حسیں ہیرے کی انگوٹھی

نجانے کتنے سالوں سے

سلیٹی رنگ کی ساڑھی میں

Friday, 4 June 2021

میں کسی کی رات کا تنہا چراغ

 میں کسی کی رات کا تنہا چراغ

اتنا سننا تھا کہ پھر مہکا چراغ

طاق جاں کی گُل ہوئی افسردگی

آس نے اُمید کا رکھا چراغ

اندرونِ ذات تک کھلتا ہوا

جسم کے جنگل میں اک اُگتا چراغ

سفر گماں ہے راستہ خیال ہے

 سفر گماں ہے، راستہ خیال ہے 

چلو گے میرے ساتھ کیا خیال ہے

نظر کو عکسِ جان کی للک ہے اور 

غضب یہ ہے کہ آئینہ خیال ہے 

کسی نظر کی روشنی سے منسلک 

یہ طاق میں دھرا دِیا خیال ہے 

Tuesday, 23 February 2021

بجھنے لگی ہے شام ستارہ اداس ہے

 بجھنے لگی ہے شام ستارہ اداس ہے

اک دوست ہے جہاں میں ہمارا، اداس ہے

افسردگی میں ارض و سماں ڈھل گئے تمام

خاموش ہے نگاہ، نظارہ اداس ہے

دو نیم ہو چکا ہے کوئی آئینہ کہیں

عکسِ چراغِ ذات کا پارہ اداس ہے