Sunday, 4 July 2021

دھوپ کے آئینے کو یکسر نہیں جھاڑوں گی میں

 دھوپ کے آئینے کو یکسر نہیں جھاڑوں گی میں

گرد دن کی دامنِ شب پر نہیں جھاڑوں گی میں

ہو گیا ہے اُنس اب مکڑی کے جالوں سے مجھے

یعنی اب کے عید پر بھی گھر نہیں جھاڑوں گی میں

دھوپ میں بیٹھوں گی تو سایہ نہیں مانگوں گی اور

بھیگ کر بارش میں اپنے پر نہیں جھاڑوں گی میں

خواب سارے کروٹوں کی نذر کر دوں گی، مگر

وقت سے پہلے کبھی بستر نہیں جھاڑوں گی میں


شمائلہ بہزاد

No comments:

Post a Comment