دھوپ کے آئینے کو یکسر نہیں جھاڑوں گی میں
گرد دن کی دامنِ شب پر نہیں جھاڑوں گی میں
ہو گیا ہے اُنس اب مکڑی کے جالوں سے مجھے
یعنی اب کے عید پر بھی گھر نہیں جھاڑوں گی میں
دھوپ میں بیٹھوں گی تو سایہ نہیں مانگوں گی اور
بھیگ کر بارش میں اپنے پر نہیں جھاڑوں گی میں
خواب سارے کروٹوں کی نذر کر دوں گی، مگر
وقت سے پہلے کبھی بستر نہیں جھاڑوں گی میں
شمائلہ بہزاد
No comments:
Post a Comment