پہن کے اجلی سی پوشاک چلا جاتا ہے
کون یہ شخص تہِ خاک چلا جاتا ہے
کہیں پیچھے رہے جاتے ہیں سبھی ارض و سما
آگے آگے میرا ادراک چلا جاتا ہے
اب تو وہ میری محبت کا بھی مقروض نہیں
جانے کس واسطے نمناک چلا جاتا ہے
کون جا سکتا ہے واں تک پہ اگر ہو محبوب
وہ سرِ عرش بھی بے باک چلا جاتا ہے
سانپ ہی سانپ لپٹتے ہیں جہاں پیروں سے
ایسے رستوں پہ بھلا خاک چلا جاتا ہے
آرب ہاشمی
No comments:
Post a Comment