عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلام اس پر
درود اس پر
یہ ایسے صادق کا ذکر ہے جو صداقتوں کا امین بھی تھا
زمین کی پستیوں پہ رہ کر
فلک کا رفعت نشین بھی تھا
جو بے یقینی کی تیرگی میں اک آفتاب یقین بھی تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلام اس پر
درود اس پر
یہ ایسے صادق کا ذکر ہے جو صداقتوں کا امین بھی تھا
زمین کی پستیوں پہ رہ کر
فلک کا رفعت نشین بھی تھا
جو بے یقینی کی تیرگی میں اک آفتاب یقین بھی تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
حق کا پیغام زمانے کو سُنایا تُو نے
اَوج پر خاک نشینوں کو بٹھایا تُو نے
کام دشوار جو تھا کر کے دِکھایا تُو نے
دے کے سر حق و صداقت کو بچایا تُو نے
کِشت اِسلام کو سر سبز بنایا تُو نے
مرحبا حق کے پرستار تِرا کیا کہنا
ستمگروں نے تراشا ہے اک بہانہ نیا
جلایا جائے گا پھر کوئی آشیانہ نیا
وہی حکایت مجبورئ بشر کہ جو تھی
نہ کوئی دام نیا ہے، نہ آب و دانہ نیا
خدا نہیں ہو، خدائی پہ اختیار تو ہے
کسے مجال کہ اب ڈھونڈے آستانہ نیا
ظلم و جور کو کب تک مصلحت میں تولیں گے
اس صدی کے دانشور کب زبان کھولیں گے
راس آ گئی جن کو بھیک آب و دانے کی
وہ طیور اب ہرگز بال و پر نہ کھولیں گے
بے حسی کے جذبوں کو خون کی ضرورت ہے
کب ضمیر جاگیں گے، کب عوام بولیں گے
مآلِ عشق و محبت سے آشنا تو نہیں
کہیں یہ غم بھی تِری طرح بے وفا تو نہیں
سفینے والو! چلو آج دل کی بات کہیں
اٹھو خدا کے لیے ناخدا خدا تو نہیں
یہ اور بات ہے ماحول سازگار نہ ہو
شکستہ بربط احساسِ بے صدا تو نہیں
طوفان سے منجھدار سے ہٹ کر نہیں دیکھا
دیکھا بھی تو ساحل سے لپٹ کر نہیں دیکھا
پتھر بھی تھے کانٹے بھی بہت راہِ طلب میں
پھر بھی کبھی اس راہ سے کٹ کر نہیں دیکھا
کشکولِ محبت میں خزانے تھے وفا کے
تُو نے کبھی دامن سے لپٹ کر نہیں دیکھا
غم سہے، رُسوا ہوئے جذبات کی تحقیر کی
ہم نے چاہا آپ کو، ہم نے بڑی تقصیر کی
روزن زنداں سے در آئی ہے سورج کی کرن
بن گئی ناقوس آزادی صدا زنجیر کی
خون کے چھینٹے پڑے ہیں شیخ کی دستار پر
شہر کی گلیوں سے آئی ہے صدا تکبیر کی
گردشِ دوراں کا شکوہ تھا، مگر اتنا نہ تھا
تم نہ تھے تب بھی میں تنہا تھا مگر اتنا نہ تھا
دوستی کے نام پر پہلے بھی کھائے تھے فریب
دوستوں نے درد بخشا تھا مگر اتنا نہ تھا
تم سے پہلے زندگی بے کیف تھی بے نام تھی
راستوں میں گھپ اندھیرا تھا مگر اتنا نہ تھا