Showing posts with label عاشور کاظمی. Show all posts
Showing posts with label عاشور کاظمی. Show all posts

Saturday, 20 July 2024

سلام اس پر درود اس پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سلام اس پر

درود اس پر

یہ ایسے صادق کا ذکر ہے جو صداقتوں کا امین بھی تھا

زمین کی پستیوں پہ رہ کر

فلک کا رفعت نشین بھی تھا

جو بے یقینی کی تیرگی میں اک آفتاب یقین بھی تھا

Thursday, 27 July 2023

حق کا پیغام زمانے کو سنایا تو نے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


حق کا پیغام زمانے کو سُنایا تُو نے

اَوج پر خاک نشینوں کو بٹھایا تُو نے

کام دشوار جو تھا کر کے دِکھایا تُو نے

دے کے سر حق و صداقت کو بچایا تُو نے

کِشت اِسلام کو سر سبز بنایا تُو نے


مرحبا حق کے پرستار تِرا کیا کہنا

Wednesday, 15 December 2021

ستمگروں نے تراشا ہے اک بہانہ نیا

 ستمگروں نے تراشا ہے اک بہانہ نیا

جلایا جائے گا پھر کوئی آشیانہ نیا

وہی حکایت مجبورئ بشر کہ جو تھی

نہ کوئی دام نیا ہے، نہ آب و دانہ نیا

خدا نہیں ہو، خدائی پہ اختیار تو ہے

کسے مجال کہ اب ڈھونڈے آستانہ نیا

Sunday, 31 October 2021

ظلم و جور کو کب تک مصلحت میں تولیں گے

 ظلم و جور کو کب تک مصلحت میں تولیں گے

اس صدی کے دانشور کب زبان کھولیں گے

راس آ گئی جن کو بھیک آب و دانے کی

وہ طیور اب ہرگز بال و پر نہ کھولیں گے

بے حسی کے جذبوں کو خون کی ضرورت ہے

کب ضمیر جاگیں گے، کب عوام بولیں گے

Friday, 22 October 2021

مآل عشق و محبت سے آشنا تو نہیں

 مآلِ عشق و محبت سے آشنا تو نہیں

کہیں یہ غم بھی تِری طرح بے وفا تو نہیں

سفینے والو! چلو آج دل کی بات کہیں

اٹھو خدا کے لیے ناخدا خدا تو نہیں

یہ اور بات ہے ماحول سازگار نہ ہو

شکستہ بربط احساسِ بے صدا تو نہیں

Wednesday, 20 October 2021

طوفان سے منجھدار سے ہٹ کر نہیں دیکھا

 طوفان سے منجھدار سے ہٹ کر نہیں دیکھا

دیکھا بھی تو ساحل سے لپٹ کر نہیں دیکھا

پتھر بھی تھے کانٹے بھی بہت راہِ طلب میں

پھر بھی کبھی اس راہ سے کٹ کر نہیں دیکھا

کشکولِ محبت میں خزانے تھے وفا کے

تُو نے کبھی دامن سے لپٹ کر نہیں دیکھا

Sunday, 9 May 2021

غم سہے رسوا ہوئے جذبات کی تحقیر کی

 غم سہے، رُسوا ہوئے جذبات کی تحقیر کی

ہم نے چاہا آپ کو، ہم نے بڑی تقصیر کی

روزن زنداں سے در آئی ہے سورج کی کرن

بن گئی ناقوس آزادی صدا زنجیر کی

خون کے چھینٹے پڑے ہیں شیخ کی دستار پر

شہر کی گلیوں سے آئی ہے صدا تکبیر کی

Wednesday, 11 November 2020

گردش دوراں کا شکوہ تھا مگر اتنا نہ تھا

 گردشِ دوراں کا شکوہ تھا، مگر اتنا نہ تھا

تم نہ تھے تب بھی میں تنہا تھا مگر اتنا نہ تھا

دوستی کے نام پر پہلے بھی کھائے تھے فریب

دوستوں نے درد بخشا تھا مگر اتنا نہ تھا

تم سے پہلے زندگی بے کیف تھی بے نام تھی

راستوں میں گھپ اندھیرا تھا مگر اتنا نہ تھا