گردشِ دوراں کا شکوہ تھا، مگر اتنا نہ تھا
تم نہ تھے تب بھی میں تنہا تھا مگر اتنا نہ تھا
دوستی کے نام پر پہلے بھی کھائے تھے فریب
دوستوں نے درد بخشا تھا مگر اتنا نہ تھا
تم سے پہلے زندگی بے کیف تھی بے نام تھی
راستوں میں گھپ اندھیرا تھا مگر اتنا نہ تھا
تم ملے تو بڑھ گئی کچھ اور دل کی بے کلی
سلسلہ تھا بے یقینی کا، مگر اتنا نہ تھا
ہر طرف چرچے ہیں اب میرے تمھارے نام کے
شہر میں عاشورؔ رسوا تھا مگر اتنا نہ تھا
عاشور کاظمی
No comments:
Post a Comment