کار زارِ زندگی میں ایسے لمحے آ گئے
عزمِ محکم رکھنے والے وقت سے گھبرا گئے
دوسروں کے واسطے جیتے رہے مرتے رہے
خوب سیرت لوگ تھے، رازِ محبت پا گئے
باغ پر بجلی گرے، یا نذرِ گلچیں ہو رہے
آہ اب سوچوں کے دھارے اس نہج پر آ گئے
کار زارِ زندگی میں ایسے لمحے آ گئے
عزمِ محکم رکھنے والے وقت سے گھبرا گئے
دوسروں کے واسطے جیتے رہے مرتے رہے
خوب سیرت لوگ تھے، رازِ محبت پا گئے
باغ پر بجلی گرے، یا نذرِ گلچیں ہو رہے
آہ اب سوچوں کے دھارے اس نہج پر آ گئے
دامن کی ہوا یاد نہ زلفوں کی گھٹا یاد
اب کچھ بھی نہیں سوز غم دل کے سوا یاد
سرگرم سفر تھا نہ رہا کچھ بھی مجھے یاد
نقشِ کفِ پا یاد نہ منزل کا پتا یاد
تم آ گئے جب یاد تو کچھ بھی نہ رہا یاد
کب تم نے بھلایا مجھے کب تم نے کیا یاد
غم گوارا بھی نہیں غم سے کنارا بھی نہیں
اور اس زندگیٔ عشق سے چارا بھی نہیں
کس نے الٹی ہے یہ اپنے رخ تاباں سے نقاب
چاند تو چاند فلک پر کوئی تارا بھی نہیں
میں انہیں اپنا کہوں مصلحتیں اس کے خلاف
وہ مجھے غیر سمجھ لیں یہ گوارا بھی نہیں
جب ان کی نگاہِ ستم دیکھتے ہیں
تو عالم کو جائے الم دیکھتے ہیں
ہو اک آئینہ آئینے کے مقابل
وہ زلفوں کے جب پیچ و خم دیکھتے ہیں
چلے جائیں گے کیوں جھڑکتے ہو صاحب
تمہاری نگاہِ کرم دیکھتے ہیں
وہ دل نہیں رہا،۔ وہ طبیعت نہیں رہی
شاید اب ان کو مجھ سے محبت نہیں رہی
گھبرا رہا ہوں کیوں یہ غمِ ناروا سے اب
کیا مجھ میں غم کے سہنے کی طاقت نہیں رہی
💔تم کیا بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا
تسکین دل کی اب کوئی صورت نہیں رہی
شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے مِلتا ہے
دعائیں جو دوا سے دل کا مارا دل سے ملتا ہے
فریبِ آسماں غربت کی راتیں دیکھتے جاؤ
کہ ہر تارہ چراغ سرحدِ منزل سے ملتا ہے
نہ جانے روح کس ناکام کی موجوں میں بیکل سے
سفینہ ڈگمگا جاتا ہے، جب ساحل سے ملتا ہے
قریب موت کھڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
قضا سے آنکھ لڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
نہ جاؤ تم ابھی تاروں کا دل دھڑکتا ہے
تمام رات پڑی ہے،۔ ذرا ٹھہر جاؤ
بجھے بجھے سے ستارے تھکی تھکی سی نگاہ
بڑی اداس گھڑی ہے،۔ ذرا ٹھہر جاؤ
طبیبوں سے نظر کی چوٹ پہچانی نہیں جاتی
پریشاں ہیں کہ کیوں میری پریشانی نہیں جاتی
کسی صورت مِری آشفتہ سامانی نہیں جاتی
بیاباں بس گئے اور گھر کی ویرانی نہیں جاتی
فنا کے گھاٹ تک غم کی ستم رانی نہیں جاتی
بہی جاتی ہیں آنکھیں اشک افشانی نہیں جاتی
زمیں کے ذرے ذرے نالہ و فریاد کرتے ہیں
چلے آؤ در و دیوار تم کو یاد کرتے ہیں
مزا آتا ہے کچھ ان کو ہمارا دل دکھانے میں
کبھی ہم نالہ کرتے ہیں کبھی فریاد کرتے ہیں
بتا دے اے نظر سے دور رہ کر روٹھنے والے
کسی کی اس طرح دنیائے دل برباد کرتے ہیں