Showing posts with label حیات امروہوی. Show all posts
Showing posts with label حیات امروہوی. Show all posts

Monday, 2 May 2022

کارزار زندگی میں ایسے لمحے آ گئے

 کار زارِ زندگی میں ایسے لمحے آ گئے

عزمِ محکم رکھنے والے وقت سے گھبرا گئے

دوسروں کے واسطے جیتے رہے مرتے رہے

خوب سیرت لوگ تھے، رازِ محبت پا گئے

باغ پر بجلی گرے، یا نذرِ گلچیں ہو رہے

آہ اب سوچوں کے دھارے اس نہج پر آ گئے

Friday, 25 February 2022

دامن کی ہوا یاد نہ زلفوں کی گھٹا یاد

 دامن کی ہوا یاد نہ زلفوں کی گھٹا یاد

اب کچھ بھی نہیں سوز غم دل کے سوا یاد

سرگرم سفر تھا نہ رہا کچھ بھی مجھے یاد

نقشِ کفِ پا یاد نہ منزل کا پتا یاد

تم آ گئے جب یاد تو کچھ بھی نہ رہا یاد

کب تم نے بھلایا مجھے کب تم نے کیا یاد

Tuesday, 25 January 2022

غم گوارا بھی نہیں غم سے کنارا بھی نہیں

 غم گوارا بھی نہیں غم سے کنارا بھی نہیں

اور اس زندگیٔ عشق سے چارا بھی نہیں

کس نے الٹی ہے یہ اپنے رخ تاباں سے نقاب

چاند تو چاند فلک پر کوئی تارا بھی نہیں

میں انہیں اپنا کہوں مصلحتیں اس کے خلاف

وہ مجھے غیر سمجھ لیں یہ گوارا بھی نہیں

Tuesday, 28 December 2021

جب ان کی نگاہ ستم دیکھتے ہیں

 جب ان کی نگاہِ ستم دیکھتے ہیں

تو عالم کو جائے الم دیکھتے ہیں

ہو اک آئینہ آئینے کے مقابل

وہ زلفوں کے جب پیچ و خم دیکھتے ہیں

چلے جائیں گے کیوں جھڑکتے ہو صاحب

تمہاری نگاہِ کرم دیکھتے ہیں

Friday, 24 December 2021

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

 وہ دل نہیں رہا،۔ وہ طبیعت نہیں رہی

شاید اب ان کو مجھ سے محبت نہیں رہی

گھبرا رہا ہوں کیوں یہ غمِ ناروا سے اب

کیا مجھ میں غم کے سہنے کی طاقت نہیں رہی

💔تم کیا بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا

تسکین دل کی اب کوئی صورت نہیں رہی

Sunday, 19 December 2021

شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے ملتا ہے

 شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے مِلتا ہے

دعائیں جو دوا سے دل کا مارا دل سے ملتا ہے

فریبِ آسماں غربت کی راتیں دیکھتے جاؤ

کہ ہر تارہ چراغ سرحدِ منزل سے ملتا ہے

نہ جانے روح کس ناکام کی موجوں میں بیکل سے

سفینہ ڈگمگا جاتا ہے، جب ساحل سے ملتا ہے

Saturday, 18 December 2021

قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

 قریب موت کھڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ

قضا سے آنکھ لڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ

نہ جاؤ تم ابھی تاروں کا دل دھڑکتا ہے

تمام رات پڑی ہے،۔ ذرا ٹھہر جاؤ

بجھے بجھے سے ستارے تھکی تھکی سی نگاہ

بڑی اداس گھڑی ہے،۔ ذرا ٹھہر جاؤ

Friday, 17 December 2021

طبیبوں سے نظر کی چوٹ پہچانی نہیں جاتی

 طبیبوں سے نظر کی چوٹ پہچانی نہیں جاتی

پریشاں ہیں کہ کیوں میری پریشانی نہیں جاتی

کسی صورت مِری آشفتہ سامانی نہیں جاتی

بیاباں بس گئے اور گھر کی ویرانی نہیں جاتی

فنا کے گھاٹ تک غم کی ستم رانی نہیں جاتی

بہی جاتی ہیں آنکھیں اشک افشانی نہیں جاتی

Wednesday, 11 November 2020

زمیں کے ذرے ذرے نالہ و فریاد کرتے ہیں

 زمیں کے ذرے ذرے نالہ و فریاد کرتے ہیں

چلے آؤ در و دیوار تم کو یاد کرتے ہیں

مزا آتا ہے کچھ ان کو ہمارا دل دکھانے میں

کبھی ہم نالہ کرتے ہیں کبھی فریاد کرتے ہیں

بتا دے اے نظر سے دور رہ کر روٹھنے والے

کسی کی اس طرح دنیائے دل برباد کرتے ہیں