شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے مِلتا ہے
دعائیں جو دوا سے دل کا مارا دل سے ملتا ہے
فریبِ آسماں غربت کی راتیں دیکھتے جاؤ
کہ ہر تارہ چراغ سرحدِ منزل سے ملتا ہے
نہ جانے روح کس ناکام کی موجوں میں بیکل سے
سفینہ ڈگمگا جاتا ہے، جب ساحل سے ملتا ہے
تمہیں تو قدر کرنی چاہیۓ تھی اپنے عاشق کی
گراتے ہو نظر سے تم اسے جو دل سے ملتا ہے
حیات ان کا زمانہ ہے، وہ جو چاہیں ستم ڈھائیں
مگر عاشق بھی مجھ جیسا بڑی مشکل سے ملتا ہے
حیات رضوی امروہوی
No comments:
Post a Comment