Sunday, 19 December 2021

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

 یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا

شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں

گیا موسم مِری دیوانگی کا

نہ رکھو خواہشِ چہرہ نمائی

نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا

میں زندہ ہوں وسیلے سے کسی کے

وگرنہ مر گیا ہوتا کبھی کا


اختر سعیدی

No comments:

Post a Comment