میں توڑوں عہد و پیمان وفا یہ ہو نہیں سکتا
وہ ہوتے ہیں تو ہو جائیں جدا یہ ہو نہیں سکتا
پلا ساقی کہ شغل مے کشی کا وقت جاتا ہے
یوں ہی چھائی رہے کالی گھٹا یہ ہو نہیں سکتا
وہ چشم سرمگیں جب تک مسیحائی نہ فرمائے
مریض غم کو ہو جائے شفا یہ ہو نہیں سکتا
میں توڑوں عہد و پیمان وفا یہ ہو نہیں سکتا
وہ ہوتے ہیں تو ہو جائیں جدا یہ ہو نہیں سکتا
پلا ساقی کہ شغل مے کشی کا وقت جاتا ہے
یوں ہی چھائی رہے کالی گھٹا یہ ہو نہیں سکتا
وہ چشم سرمگیں جب تک مسیحائی نہ فرمائے
مریض غم کو ہو جائے شفا یہ ہو نہیں سکتا
مجبور ہوں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
فردِ عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں
گو جانتا بھی ہوں تِرا ملنا محال ہے
اس پر بھی تیری چاہ کئے جا رہا ہوں میں
تیرا فریب وعدہ بہت کامیاب ہے
آنکھوں کو فرشِ راہ کئے جا رہا ہوں میں
میں اک شاعر ہوں، اسرارِ حقیقت کھول سکتا ہوں
ندائے غیب بن کر سب کے دل میں بول سکتا ہوں
خدا نے جس طرح کھولا ہے میرے دل کی آنکھوں کو
یوں ہی میں ہر کسی کے دل کی آنکھیں کھول سکتا ہوں
ودیعت کی ہے قدرت نے وہ میزانِ نظر مجھ کو
کہ خوب و زشت عالم کو بخوبی تول سکتا ہوں
اور ہوں گے وہ جنہیں ضبط کا دعویٰ ہو گا
ہر بن مُو سے یہاں ذکر کسی کا ہو گا
حسن کیوں عشق کی تشہیر پہ شاداں ہے بہت
عشق رسوا ہے تو کیا حسن نہ رسوا ہو گا
اشک بن بن کے وہ آنکھوں سے ٹپک جائے گی
کیا خبر تھی کہ یہ انجامِ تمنا ہو گا
حسنِ فانی پر ہم اپنا دل فدا کرتے رہے
اب پشیماں ہیں کہ ساری عمر کیا کرتے ہیں
ہم سمجھتے ہیں جنابِ شیخ کیا کرتے رہے
حور و غلماں کے لیے یادِ خدا کرتے رہے
ضبط گریہ، ضبطِ نالہ، ضبطِ فریاد و فغاں
عشق میں جو کچھ بھی ہم سے ہو سکا کرتے رہے