اور ہوں گے وہ جنہیں ضبط کا دعویٰ ہو گا
ہر بن مُو سے یہاں ذکر کسی کا ہو گا
حسن کیوں عشق کی تشہیر پہ شاداں ہے بہت
عشق رسوا ہے تو کیا حسن نہ رسوا ہو گا
اشک بن بن کے وہ آنکھوں سے ٹپک جائے گی
کیا خبر تھی کہ یہ انجامِ تمنا ہو گا
کہیں رسوا نہ کرے حیرت دیدار مجھے
آج وہ جلوۂ مستور ہویدا ہو گا
دل ہی آشوب زمانہ کا سبب ہے سیماب
دل نہ ہو گا تو کوئی حشر نہ برپا ہو گا
سیماب بٹالوی
No comments:
Post a Comment