Showing posts with label عابد صائم. Show all posts
Showing posts with label عابد صائم. Show all posts

Tuesday, 5 August 2025

ایسی صورت میں بھی اب اشک رواں ہوتا ہے

 ایسی صورت میں بھی اب اشک رواں ہوتا ہے

چوٹ لگتی ہے کہاں، درد کہاں ہوتا ہے

تیرگی شب کی یوں دیتی ہے اذیت مجھ کو

دن ابھرتے ہوئے مرنے کا گماں ہوتا ہے

آپ کے ہونے سے یہ راز چمن ہم پہ کھلا

پھول کھلتا ہے تو خوشبو میں جواں ہوتا ہے

Sunday, 13 July 2025

آپ کی نعت پڑھوں اور وہیں ہونے لگوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپﷺ کی نعت پڑھوں اور وہیں ہونے لگوں

شہرِ طیبہ کا میں بے مثل مکیں ہونے لگوں

جب کوئی ذکر کرے صلے علیٰ صلے علیٰ

ایک امید بنوں دل کے قریں ہونے لگوں

چاہتا میں بھی ہوں اب آپ کا روضہ دیکھوں

اس سے پہلے کے میں ہجراں سے حزیں ہونے لگوں

Friday, 4 July 2025

میں وہ دریا کہ سمندر بھی بہا لے جاؤں

 اب یہی سوچ رہا ہوں کہ میں کیا لے جاؤں

دل سے اچھا ہے تری یاد چرا لے جاؤں

اپنی مرضی سے اگر آنا ہے آجا ورنہ

اتنا کم ظرف نہیں تجھ کو اٹھا لے جاؤں

میں نے جانا ہے افق پار کسی سے ملنے

تم نے جانا ہے اگر ساتھ تو آ، لے جاؤں

Sunday, 29 June 2025

مدحت ختم رسل شاہ مدینہ یا نبی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدحتِ ختمِ رسلﷺ شاہِ مدینہ یا نبیﷺ

دل دھڑکتا ہے مرا کہتا ہے سینہ یا نبیﷺ

ہے دعا اتنی تِرے روضے کو چوموں ایک دن

پار یوں لگ جائے میرا بھی سفینہ یا نبیﷺ

نقش ماتھے پر سجاؤں آپﷺ کے نعلین کا

روزِ محشر بھی میں کہلاؤں نگینہ یا نبیﷺ

Friday, 27 June 2025

کر دیجیے کرم اب سرکار آپ کا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کر دیجیے کرم اب سرکارؐ آپ کا ہے

بندہ گدائے پرور بیمار آپﷺ کا ہے

ہر آنکھ کی ہے ٹھنڈک دل کی یہی تمنا

ہر گام ہر گھڑی وہ دیدار آپﷺ کا ہے

کوئی نہیں جہاں میں جس سے ملا ہو اتنا

جتنا ملا ہے سب کو یہ پیار آپﷺ کا ہے