ایسی صورت میں بھی اب اشک رواں ہوتا ہے
چوٹ لگتی ہے کہاں، درد کہاں ہوتا ہے
تیرگی شب کی یوں دیتی ہے اذیت مجھ کو
دن ابھرتے ہوئے مرنے کا گماں ہوتا ہے
آپ کے ہونے سے یہ راز چمن ہم پہ کھلا
پھول کھلتا ہے تو خوشبو میں جواں ہوتا ہے
ایسی صورت میں بھی اب اشک رواں ہوتا ہے
چوٹ لگتی ہے کہاں، درد کہاں ہوتا ہے
تیرگی شب کی یوں دیتی ہے اذیت مجھ کو
دن ابھرتے ہوئے مرنے کا گماں ہوتا ہے
آپ کے ہونے سے یہ راز چمن ہم پہ کھلا
پھول کھلتا ہے تو خوشبو میں جواں ہوتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کی نعت پڑھوں اور وہیں ہونے لگوں
شہرِ طیبہ کا میں بے مثل مکیں ہونے لگوں
جب کوئی ذکر کرے صلے علیٰ صلے علیٰ
ایک امید بنوں دل کے قریں ہونے لگوں
چاہتا میں بھی ہوں اب آپ کا روضہ دیکھوں
اس سے پہلے کے میں ہجراں سے حزیں ہونے لگوں
اب یہی سوچ رہا ہوں کہ میں کیا لے جاؤں
دل سے اچھا ہے تری یاد چرا لے جاؤں
اپنی مرضی سے اگر آنا ہے آجا ورنہ
اتنا کم ظرف نہیں تجھ کو اٹھا لے جاؤں
میں نے جانا ہے افق پار کسی سے ملنے
تم نے جانا ہے اگر ساتھ تو آ، لے جاؤں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدحتِ ختمِ رسلﷺ شاہِ مدینہ یا نبیﷺ
دل دھڑکتا ہے مرا کہتا ہے سینہ یا نبیﷺ
ہے دعا اتنی تِرے روضے کو چوموں ایک دن
پار یوں لگ جائے میرا بھی سفینہ یا نبیﷺ
نقش ماتھے پر سجاؤں آپﷺ کے نعلین کا
روزِ محشر بھی میں کہلاؤں نگینہ یا نبیﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کر دیجیے کرم اب سرکارؐ آپ کا ہے
بندہ گدائے پرور بیمار آپﷺ کا ہے
ہر آنکھ کی ہے ٹھنڈک دل کی یہی تمنا
ہر گام ہر گھڑی وہ دیدار آپﷺ کا ہے
کوئی نہیں جہاں میں جس سے ملا ہو اتنا
جتنا ملا ہے سب کو یہ پیار آپﷺ کا ہے