Showing posts with label محمود کیفی. Show all posts
Showing posts with label محمود کیفی. Show all posts

Friday, 4 March 2022

جینا ہے سینہ تان کے یلغار ہو تو ہو

 جینا ہے سینہ تان کے، یلغار ہو تو ہو

دشمن کا میرے مجھ پہ اگر وار ہو تو ہو

مجھ کو نہیں ہے اپنے مقدر پہ کچھ گِلہ

مجھ سے بڑا اگر کوئی فنکار ہو تو ہو

انسانیت نہیں، تو نہیں کچھ بھی میرے دوست

فِرقوں سے گر کسی کو سروکار ہو تو ہو

Thursday, 30 December 2021

جیسا خدا کا حکم ہے ویسا سمجھتا ہوں

 جیسا خدا کا حکم ہے ویسا سمجھتا ہوں

پتھر کے اک مکان کو کعبہ سمجھتا ہوں

تم کہہ رہے ہو؛ اک بڑی نعمت ہے زندگی

میں تو اسے حضورؐ کا صدقہ سمجھتا ہوں

کاغذ کے ایک ٹکڑے سے قائل نہ کر مجھے

میں تو تمہارے فعل کو شجرہ سمجھتا ہوں

Wednesday, 24 November 2021

جستجو کے کسی جہان میں ہے

 جستجو کے کسی جہان میں ہے

دل پرندہ ابھی اڑان میں ہے

میں اسے دیکھتا ہوں، وہ مجھ کو

صرف آئینہ درمیان میں ہے

اس کا چہرہ ہے اب بھی آنکھوں میں

اس کی آواز اب بھی کان میں ہے

Monday, 20 September 2021

نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا

 نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا؟

زندہ رہنا ہی زندگی ہے کیا

مِلتے رہنا تو ٹھیک ہے، لیکن

مِلتے رہنا ہی دوستی ہے کیا

کیا محبت نہیں رہی لوگو

بس ضرورت ہی رہ گئی ہے کیا

رستے سے جو پتھر کو ہٹا سکتا تھا

 رستے سے جو پتھر کو ہٹا سکتا تھا

اک شخص کی وہ جان بچا سکتا تھا

اب خود کو اٹھایا نہیں جاتا اس سے

وہ شخص جو ہر بوجھ اٹھا سکتا تھا

اب پاس ہے، لیکن نہیں سمجھا اس نے

جو دور سے اندازہ لگا سکتا تھا

Saturday, 28 November 2020

ایک طوفان ہے ٹالا نہیں جا سکتا

 ایک طوفان ہے، ٹالا نہیں جا سکتا

یاد کو دل سے نکالا نہیں جا سکتا

اب تری دید کی خواہِش ہے ان آنکھوں کو

اب ان آنکھوں سے اجالا نہیں جا سکتا

میرے کردار کے باعث ہے مری عزت

میری پگڑی کو اچھالا نہیں جا سکتا

Friday, 27 November 2020

کبھی نہ لوٹ کے آنے کی بات کرتے ہوئے

 کبھی نہ لوٹ کے آنے کی بات کرتے ہُوئے

رکا ہوا تھا وہ جانے کی بات کرتے ہوئے

گِرا زمیں پہ وہ ایسا، کہ پھر اٹھا نہ گیا

کسی کا بوجھ اٹھانے کی بات کرتے ہوئے

کسی کے دل💔 کی تمنا کا خون کر بیٹھا

کسی کی جان بچانے کی بات کرتے ہوئے

Thursday, 26 November 2020

کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں

 کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں

میری تو منزِل ہے تیرے رستے میں

پہلے تو کی میں نے بات محبت سے

پھر سمجھایا اس کو اسی کے لہجے میں

اب ہم دونوں آزادی سے رہتے ہیں

قدرت نے ہم کو باندھا ہے رِشتے میں