جینا ہے سینہ تان کے، یلغار ہو تو ہو
دشمن کا میرے مجھ پہ اگر وار ہو تو ہو
مجھ کو نہیں ہے اپنے مقدر پہ کچھ گِلہ
مجھ سے بڑا اگر کوئی فنکار ہو تو ہو
انسانیت نہیں، تو نہیں کچھ بھی میرے دوست
فِرقوں سے گر کسی کو سروکار ہو تو ہو
جینا ہے سینہ تان کے، یلغار ہو تو ہو
دشمن کا میرے مجھ پہ اگر وار ہو تو ہو
مجھ کو نہیں ہے اپنے مقدر پہ کچھ گِلہ
مجھ سے بڑا اگر کوئی فنکار ہو تو ہو
انسانیت نہیں، تو نہیں کچھ بھی میرے دوست
فِرقوں سے گر کسی کو سروکار ہو تو ہو
جیسا خدا کا حکم ہے ویسا سمجھتا ہوں
پتھر کے اک مکان کو کعبہ سمجھتا ہوں
تم کہہ رہے ہو؛ اک بڑی نعمت ہے زندگی
میں تو اسے حضورؐ کا صدقہ سمجھتا ہوں
کاغذ کے ایک ٹکڑے سے قائل نہ کر مجھے
میں تو تمہارے فعل کو شجرہ سمجھتا ہوں
جستجو کے کسی جہان میں ہے
دل پرندہ ابھی اڑان میں ہے
میں اسے دیکھتا ہوں، وہ مجھ کو
صرف آئینہ درمیان میں ہے
اس کا چہرہ ہے اب بھی آنکھوں میں
اس کی آواز اب بھی کان میں ہے
نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا؟
زندہ رہنا ہی زندگی ہے کیا
مِلتے رہنا تو ٹھیک ہے، لیکن
مِلتے رہنا ہی دوستی ہے کیا
کیا محبت نہیں رہی لوگو
بس ضرورت ہی رہ گئی ہے کیا
رستے سے جو پتھر کو ہٹا سکتا تھا
اک شخص کی وہ جان بچا سکتا تھا
اب خود کو اٹھایا نہیں جاتا اس سے
وہ شخص جو ہر بوجھ اٹھا سکتا تھا
اب پاس ہے، لیکن نہیں سمجھا اس نے
جو دور سے اندازہ لگا سکتا تھا
ایک طوفان ہے، ٹالا نہیں جا سکتا
یاد کو دل سے نکالا نہیں جا سکتا
اب تری دید کی خواہِش ہے ان آنکھوں کو
اب ان آنکھوں سے اجالا نہیں جا سکتا
میرے کردار کے باعث ہے مری عزت
میری پگڑی کو اچھالا نہیں جا سکتا
کبھی نہ لوٹ کے آنے کی بات کرتے ہُوئے
رکا ہوا تھا وہ جانے کی بات کرتے ہوئے
گِرا زمیں پہ وہ ایسا، کہ پھر اٹھا نہ گیا
کسی کا بوجھ اٹھانے کی بات کرتے ہوئے
کسی کے دل💔 کی تمنا کا خون کر بیٹھا
کسی کی جان بچانے کی بات کرتے ہوئے
کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں
میری تو منزِل ہے تیرے رستے میں
پہلے تو کی میں نے بات محبت سے
پھر سمجھایا اس کو اسی کے لہجے میں
اب ہم دونوں آزادی سے رہتے ہیں
قدرت نے ہم کو باندھا ہے رِشتے میں