Monday, 20 September 2021

نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا

 نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا؟

زندہ رہنا ہی زندگی ہے کیا

مِلتے رہنا تو ٹھیک ہے، لیکن

مِلتے رہنا ہی دوستی ہے کیا

کیا محبت نہیں رہی لوگو

بس ضرورت ہی رہ گئی ہے کیا

اب کوئی آرزو نہیں باقی

زندگی ختم ہو چکی ہے کیا

دوستو! حال تک نہیں پوچھا

مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہے کیا

مے کشو! آج یہ تو بتلاؤ

غم کا درماں شراب ہی ہے کیا

سوزِ انسانیت کہاں ہے تُو

شہر میں جا نہیں مِلی ہے کیا

کیوں پریشان ہو دُکاں دارو

اب وفا بِک نہیں رہی ہے کیا

ہر طرف سُرخ رنگ پھیلا ہے

زندگی! شام ہو رہی ہے کیا

تم یہ کیفی جو شعر کہتے ہو

مُدعا صرف شاعری ہے کیا


محمود کیفی

No comments:

Post a Comment