پونر جنم
ایک نئے رُوپ اور
ایک نئی اُمنگ سے
زندگی کی ترنگ سے
فلک بوس وادیاں
ان میں پھیلی ندیاں
روشنی کی اک دھار
پونر جنم
ایک نئے رُوپ اور
ایک نئی اُمنگ سے
زندگی کی ترنگ سے
فلک بوس وادیاں
ان میں پھیلی ندیاں
روشنی کی اک دھار
لہو سے زمیں پر لکیریں
ناداں ہو تم
بے خبر ہو کہ
کاغذ پہ کھینچی ہوئی سرحدوں کی
حفاظت کی پاداش میں
کاٹ دیتے ہو جسموں کو لبریز
بھولی بسری آنکهوں کو
جب اس میں تُو اُمید دیکھے
تِری انگ انگ میں درد اُٹھے
تُو آ کر ان پر وار کرے
وه آنکھیں جب اس وار کو سمجھیں
تب تُو اپنا کام تمام کرے
سب ہی گمشدہ ہیں
ترازو لیے ہاتھ میں سارے منصف
خدا
بندگانِ اطاعت
رعیت حکومت
کہیں کھو گئے ہیں
یوں تو ہزار رنگ و ہزار جلوؤں
میں تیرے ساتھ رہی
تُو نے کچھ ایسے رنگ بدلے
کے رُت ہی بدل گئی
اپنے ہاتھ میں کر کے پیوست
تیرے نام کی اک لکیر
ب کا بنجارن
دور کھڑی اک سوگوار
درخت کے سائے تلے
چولی دامن اور گھونگھٹ سے
چہرہ چھپائے ہوئے
اگنی پریکشا دئیے
شیشۂ قلب کے اندر
کچھ شبیہہ دل کے، پار ہوتے ہیں
کچھ ادهر ادهر سے آتے ہیں
اور اپنا عکس بناتے ہیں
مدت اس اغیار کی بس
اک آنی جانی ہوتی ہے