Showing posts with label ناز بارکزئی. Show all posts
Showing posts with label ناز بارکزئی. Show all posts

Tuesday, 8 August 2023

پونر جنم ایک نئے روپ اور ایک نئی امنگ سے

 پونر جنم


ایک نئے رُوپ اور

ایک نئی اُمنگ سے

زندگی کی ترنگ سے

فلک بوس وادیاں

ان میں پھیلی ندیاں 

روشنی کی اک دھار

Monday, 19 June 2023

لہو سے زمیں پر لکیریں

 لہو سے زمیں پر لکیریں


ناداں ہو تم

بے خبر ہو کہ

کاغذ پہ کھینچی ہوئی سرحدوں کی

حفاظت کی پاداش میں

کاٹ دیتے ہو جسموں کو لبریز

Friday, 16 June 2023

اے کینسر تجھے کینسر لگ جائے

 بھولی بسری آنکهوں کو

جب  اس میں تُو اُمید دیکھے

تِری انگ انگ میں درد اُٹھے

تُو آ کر ان پر وار کرے

وه آنکھیں جب اس وار کو سمجھیں

تب تُو اپنا کام تمام کرے

Wednesday, 14 June 2023

سب ہی گمشدہ ہیں ترازو لیے ہاتھ میں سارے منصف

 سب ہی گمشدہ ہیں


ترازو لیے ہاتھ میں سارے منصف

خدا

بندگانِ اطاعت

رعیت حکومت 

کہیں کھو گئے ہیں

Tuesday, 13 June 2023

یوں تو ہزار رنگ و ہزار جلوؤں

 یوں تو ہزار رنگ و ہزار جلوؤں 

میں تیرے ساتھ رہی 

تُو نے کچھ ایسے رنگ بدلے

کے رُت ہی بدل گئی

اپنے ہاتھ میں کر کے پیوست

تیرے نام کی اک لکیر

Wednesday, 5 January 2022

ع کا عشق تھا ب کا بنجارن کر دیا

 ب کا بنجارن


دور کھڑی اک سوگوار

درخت کے سائے تلے

چولی دامن اور گھونگھٹ سے

چہرہ چھپائے ہوئے

اگنی پریکشا دئیے

Tuesday, 4 January 2022

شیشۂ قلب کے اندر

 شیشۂ قلب کے اندر


کچھ شبیہہ دل کے، پار ہوتے ہیں

کچھ ادهر ادهر سے آتے ہیں

اور اپنا عکس بناتے ہیں

مدت اس اغیار کی بس

اک آنی جانی ہوتی ہے